تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 188
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اگست 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم بدمزگی پیدا ہوگی کیونکہ میں تو اپنے رنگ میں اس کی تردید کروں گا۔چنانچہ اس پادری نے اس کی تردید شائع کرائی۔ایک لمبا نوٹ لکھا گیا، جو اس اخبار میں شائع ہو گیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک اور موقع ہمارے ریہ کو پھیلانے اور اسلام سے تعارف کرانے کا پیدا کر دیا۔بہر حال جیسا کہ میں نے بتایا ہے، وہاں کی ہر اخبار نے ہمارے متعلق لکھا اور بعض اخبارات نے ایک ایک صفحہ اس کے لئے دیا۔پھر جیسا کہ میں نے اشارہ بتایا ہے کہ ہمارے ملکوں میں تو رواج نہیں لیکن اس ملک میں یہ رواج ہے کہ باہر سے آنے والے ایسے آدمیوں کو، جن کو وہ بڑا سمجھتے ہیں، لارڈ میئر ریسپشن دیتا ہے۔اور اس کا یہ مقصد ہوتا ہے کہ وہ اسے اپنے شہر میں خوش آمدید کہہ رہے ہوتے ہیں۔کوپن ہیگن میں دوسرے ملکوں کے رواج کی طرح صرف ایک کارپوریشن نہیں ، جس کے آگے مختلف یونٹ ہوں ، وہاں مختلف کارپوریشنز ہیں، جن میں سے ہر ایک انڈی پینڈنٹ ہے، آپس میں ان کا کوئی تعلق نہیں۔ان میں سے اس کارپوریشن کا، جس کے علاقہ میں ہماری مسجد ہے، الگ لارڈ میئر ہے۔اس کے علاوہ ایک اور کار پوریشن ہے، جس میں کوپن ہیگن کا پرانا شہر واقع ہے، اس کی میئرس ایک عورت ہے۔ان دونوں کارپوریشنوں نے ہمیں ری سپشن دی ہوئی تھی۔ہمارے علاقہ کی کارپوریشن کا لارڈ میئر مشن سے اتنا تعلق رکھتا ہے کہ وہ چھٹیوں پر گیا ہوا تھا اور وہاں سے وہ صرف مسجد کے افتتاح میں شامل ہونے اور مجھے ری سپشن دینے کے لئے واپس آیا۔اور بڑے پیار سے اس نے مجھ سے گفتگو کی۔میں نے اسے بتلایا کہ ہمارے احمدی مسلمان تمہاری کارپوریشن کے بہترین شہریوں میں سے ہوں گے کیونکہ ہمارا یہ مذہبی عقیدہ ہے کہ ہم ملکی قانون کی پابندی کریں۔اسلام نے ہمیں یہی سکھایا ہے۔لارڈ میئر نے ہمیں اپنی کارپوریشن کا جھنڈا دیا اور ہم نے اسے قرآن کریم دیا۔پھر ہم دوسری کارپوریشن کی طرف سے دی ہوئی ری سپشن میں شریک ہوئے۔اس میں لارڈ میئرس نے ہمیں اپنی کارپوریشن سے متعلق ایک معلوماتی کتاب دی اور ہم نے اس کو قرآن کریم پیش کیا۔باتیں بھی ہوتی رہیں۔اس موقع پر پریس کے نمائندے بھی موجود تھے۔اگلے دن اس ری سپشن کی تصویر بھی اخباروں میں آگئی، جس میں لارڈ میئرس کو قرآن کریم وصول کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ایک اخبار نویس نے شرارتا اسے کہا کہ انہوں نے تم کو اپنا ہاتھ نہیں دیا یعنی مصافحہ نہیں کیا۔وہ عورت پڑھی لکھی تھی اور بڑی ہوشیار تھی۔اس نے فوراً یہ جواب دیا کہ انہوں نے مجھے اپنا ہاتھ تو نہیں دیا لیکن مجھے قرآن کریم دیا ہے۔اور اگلے دن اس کا یہ فقرہ بھی اخباروں میں چھپ گیا۔اس کے بعد ہم یورپ کو چھوڑ کر لنڈن پہنچے۔لنڈن کے پریس نے ہمارے ساتھ پہلے تو کوئی تعاون نہیں کیا یعنی انہوں نے ہمارے متعلق کوئی خبر نہیں دی۔صرف ایک اخبار نے خبر دی، جس کا نمائندہ 188