تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 187
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبه جمعه فرموده 25 اگست 1967ء اس کے بعد ہم کوپن ہیگن گئے۔پہلے اس کے کہ میں کچھ کوپن ہیگن کے متعلق بتاؤں ، میں ایک واقعہ بتانا چاہتا ہوں۔زیورک میں جو ٹیم ٹیلی ویژن کے لئے انٹرویو لینے آئی تھی ، وہ تین اشخاص پر مشتمل تھی۔ان میں سے دومرد اور ایک عورت تھی۔جو عورت تھی، اس نے کہا، میں ریکارڈ کرنے سے پہلے آپ سے بعض سوال کر کے جواب لینا چاہتی ہوں۔کیونکہ پروگرام چھوٹا ہے اور سوال زیادہ ہیں، میں جو جواب اچھے سمجھوں گی، انہیں ٹیلی ویژن کے لئے ریکارڈ کرلوں گی۔میں نے کہا، ٹھیک ہے۔اس نے ایک سوال یہ کیا کہ آپ ہمارے ملک میں اسلام کس طرح پھیلائیں گے؟ میں نے اسے فوری طور پر یہ جواب دیا کہ دلوں کو فتح کر کے۔اس کو یہ جواب اتنا اچھا لگا کہ وہ کہنے لگی، میں یہ فقرہ ضرور ٹیلی ویژن پر لانا چاہتی ہوں۔میں نے کہا ، ٹھیک ہے۔اس کے بعد انہوں نے ٹیلی ویژن کے لئے ریل (فلم) تیار کی۔منظر یہ تھا کہ پیچھے مسجد تھی اور سامنے میں تھا۔میں جو کچھ بول رہا تھا ، وہ اس فلم پر آ گیا اورنشر ہوا۔کوپن ہیگن کی پریس کانفرنس میں بھی ایک نمائندہ نے یہ سوال کر دیا کہ آپ ہمارے ملک میں اسلام کیسے پھیلائیں گے؟ میں نے اسے کہا کہ بالکل یہی سوال زیورک میں ایک عورت نے کیا تھا اور میں نے اسے یہ جواب دیا تھا کہ دلوں کو فتح کر کے۔اس جواب پر ایک عورت نمائندہ بڑے وقار سے کہنے لگی کہ ان دلوں کو لے کر آپ کریں گے کیا؟ میں نے اسے جواب دیا کہ پیدا کرنے والے رب کے قدموں میں جارکھیں گے۔اس جواب کا اس پر اس قدراثر ہوا کہ وہ پر یس کا نفرنس کے بعد بھی کافی دیر وہاں ٹھہری رہی۔اس نے ہمیں نماز پڑھتے دیکھا۔اس نے کہا، میں واپس جا کر ایک مضمون لکھوں گی۔خیر وہاں بھی پریس انٹرویو ہوا اور بڑا اچھا ہوا اور تمام اخبارات میں وہ چھپا۔پریس کانفرنس سے پہلے مسجد کے افتتاح کی جو تصویریں چھپیں، ان میں ایک اخبار نے یہ کیا کہ نماز کی تصویر دے کر اس کے نیچے یہ نوٹ دے دیا کہ یہ لوگ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عبادت کر رہے ہیں۔اگلے دن پادریوں کے ایک گروپ نے مجھ سے انٹرویو کا وقت لیا ہوا تھا۔اس دن صبح ہی وہ اخبار آ گیا۔میں نے دوستوں کو یہ ہدایت دی کہ جب پادری آئیں تو یہ اخبار میرے ہاتھ میں دے دیں۔چنانچہ میٹنگ سے پہلے وہ اخبار میرے ہاتھ میں دے دیا گیا۔اس گروپ کا جو لیڈر تھا، میں نے اس سے کہا کہ اس فقرہ کا ترجمہ کر کے مجھے بتاؤ۔مجھے اس کے مفہوم کا علم تو تھا لیکن میں اس کے منہ سے کہلوانا چاہتا تھا۔شرمندگی سے اس کا منہ سرخ ہو گیا اور اس نے کہا، ہم یہ نوٹ پہلے دیکھ چکے ہیں اور بڑے شرمندہ ہیں۔میں نے کہا، اب دو صورتیں ہیں۔یا تو میں اس کی تردید کروں اور یا تم اس کی تردید کرو۔اگر میں اس کی تردید کروں گا تو اس۔سے 187