تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 189
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 25 اگست 1967ء ائیر پورٹ پر آیا ہوا تھا اور اس سے گفتگو بھی ہوئی تھی۔لیکن عام طور پر پریس نے ہمیں نظر انداز کیا۔تین دن ہم وہاں رہے، پھر ہم سکاٹ لینڈ چلے گئے۔وہاں بھی پریس کانفرنس ہوئی اور وہاں کی اخباروں نے خبریں بھی دیں۔اس کے بعد ہم چند روز ، ونڈر مئیر ٹھہرے۔اس دوران ایک مقامی اخبار نے امام رفیق (مسجد لنڈن کے امام ) کو فون کیا اور کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں، جو ہمارے علاقہ میں ٹھہرے ہوئے ہیں؟ یہاں تو ایک ہنگامہ بپا ہے کہ مقامی اخبار نے کچھ لکھا نہیں۔اور لوگ حیران ہیں۔آخر انہیں پتہ لگنا چاہئے کہ یہ کون ہیں؟ چنانچہ امام رفیق نے اسے بتایا اور اس نے اگلے روز ایک خبر شائع کر دی۔ابھی ہم ونڈر مئیر میں ہی تھے کہ ہمیں وہاں ایک پیغام ملا کہ ٹائمنرلنڈن سپیشل انٹرویو لینا چاہتا ہے۔میں نے کہا، ٹھیک ہے لیکن وقت ہم وہاں مقرر کریں گے۔ٹائمنر لنڈن چوٹی کے اخباروں میں سے ہے۔دوست یہ نہ سمجھیں کہ میں چھوٹی چھوٹی باتوں کا ذکر کر رہا ہوں۔میرے نزدیک یہ باتیں بڑی اہم ہیں۔کیونکہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ٹائمنر لنڈن کا جو نو جوان نمائندہ انٹرویو لینے آیا، اس نے مجھے بتایا کہ وہ آسٹریلیا کا رہنے والا ہے، لنڈن کا رہنے والا نہیں اور وہ صرف چھ ماہ سے یہاں کام کر رہا ہے۔میں جب آکسفورڈ میں پڑھا کرتا تھا ، اس وقت میرے بعض گہرے دوست آسٹریلیا کے طالب علم تھے۔میں نے کہا، مجھے تم سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ویسے تو مجھے ہر ایک سے مل کر خوشی ہوتی ہے لیکن تمہارے ساتھ مل کر اس لئے بھی خوشی ہوئی کہ آسٹریلیا کے بعض طالب علموں سے میری بڑی گہری دوستی تھی اور بڑے لمبے زمانہ کے بعد آج میں ایک آسٹریلین سے مل رہا ہوں۔بہر حال ایک بے تکلفی کا ماحول پیدا ہو گیا۔وہ نوجوان بڑا اعقلمند تھا اور زیرک تھا۔وہ مجھ سے مختلف باتیں کرتا رہا۔وہاں پریس کے نمائندے مجھے سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کرتے تھے۔لیکن یورپ کا پریس بڑا سمجھ دار ہے، جب میں نے ان سے کہہ دیا کہ مجھ سے صرف مذہبی باتیں کرو تو وہ اس پر زور نہیں دیتے تھے۔میں نے اس سے بھی کہا کہ مجھ سے سیاست کی بات نہ کرو تو وہ رک گیا۔میں نے اس کو یہ بھی بتایا کہ اسلام امن اور سلامتی کا مذہب ہے۔نیز مذہب کا تعلق دل سے ہے اور دل کو طاقت کے ذریعہ بدلا نہیں جاسکتا۔مذہب کے نام پر خواہ مخواہ جھگڑنا ہی غیر معقول ہے۔اب ہم دونوں یہاں بیٹھے ہیں، میں ایک مسلمان ہوں اور ایک مذہبی فرقہ کا سر براہ ہوں اور تم ایک عیسائی نوجوان ہو، میرے دل میں تمہارے متعلق دشمنی، نفرت کا یا حقارت کا کوئی جذ بہ نہیں اور مجھے یقین ہے کہ تمہارے دل میں میرے خلاف دشمنی ، نفرت یا حقارت کا کوئی جذبہ نہیں۔اور اگر ہم یہاں اس کمرہ میں اس قسم کی فضا پیدا کر سکتے ہیں تو ساری دنیا میں بھی پیدا کر سکتے ہیں۔دوسرے دن اس نے اخبار میں بڑا اچھا نوٹ | 189