تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 186 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 186

خطبہ جمعہ فرمود 25 اگست 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اس پریس کانفرنس میں دوعورتیں بھی تھیں۔میں نے ان سے ہاتھ نہیں ملایا تھا اور اس پر ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا، آپ نے ہم سے ہینڈ ھیک یعنی مصافحہ کر کے ہماری عزت افزائی تو کی ہے لیکن ان عورتوں کی عزت افزائی نہیں کی ، یہ کیا بات ہے؟ میں نے کہا کہ میں تمہارا بڑا ممنون ہوں کہ تم نے یہ سوال کر کے بات کی وضاحت کر والی ہے، اور نہ تم یہاں سے اٹھ جاتے تو غلط نہی قائم رہتی۔اسلام کا یہ مسئلہ ہے اور یہ ایک عورت کی بے عزتی کے خیال سے نہیں بلکہ اس کی عزت اور احترام کو قائم کرنے کے لئے ہے۔تم یہ تو کہہ سکتے ہو کہ ہمارا نظریہ درست نہیں، مگر ہم پر یہ الزام نہیں لگ سکتا کہ ہم عورت کی عزت اور احترام نہیں کرتے۔خیر بات ان کی سمجھ میں آگئی اور ان کی تسلی ہوگئی۔بڑی لمبی چوڑی گفتگو ہوئی ، ان سے، اس موقع پر۔ایک بڑی اچھی تصویر بھی لی گئی، جو مجھے بہت پسند آئی۔میں نے ایک وارنگ دیتے ہوئے، جوش میں اپنی انگلی (ایک خاص انداز سے ہلائی، جونہی میں نے انگلی ہلائی ، ایک فوٹو گرافر نے چھلانگ لگائی، میرا خیال تھا کہ وہ تصویر نہیں لے سکے گا لیکن وہ اپنے فن میں بڑے ماہر ہوتے ہیں، پتہ نہیں ، کس طرح اس نے تصویر لے لی۔دوسرے دن وہ تصویر اخبار میں آگئی۔ہیمبرگ کے ٹیلی ویژن کو ایک کروڑ سے زیادہ آدمی دیکھتے ہیں۔جرمن کے چھوٹے چھوٹے کئی صوبے ہیں اور ہیمبرگ کا ٹیلی ویژن تین چار صوبوں میں دیکھا جاتا ہے۔ہیمبرگ کا ٹیلی ویژن ، جس علاقہ میں دیکھا جا سکتا ہے، اس کے متعلق اندازہ ہے کہ اس میں اسے ایک کروڑ سے زیادہ آدمی دیکھتے ہیں۔ہم نے اس میں چالیس فیصدی کاٹ دیا کہ بہت سے لوگ باہر گئے ہوئے ہوتے ہیں، بعض لوگ سیر و سیاحت کے لئے گھروں سے نکلے ہوئے ہوتے ہیں۔پھر بھی 60,70 لاکھ کے درمیان لوگوں نے ہمیں ٹیلی ویژن پر دیکھ لیا۔اور جو باتیں وہاں ہوئیں ، وہ یہی تھیں کہ اسلام لاؤ اور اپنے اللہ کی معرفت حاصل کرو۔یہ پیغام براڈ کاسٹ بھی ہو گیا اور پھر سارے اخباروں میں بھی آ گیا۔اخباروں کی وجہ سے شہر میں ہمارا اس طرح چرچہ ہوا کہ ہمارے لئے باہر نکلنا مشکل ہو گیا۔دو، ایک بار ہم بازار میں گئے تو جہاں تک نظر جاتی تھی ، مرد، عورتیں اور بچے اپنا کام کاج چھوڑ کر ہماری طرف دیکھنے لگ جاتے تھے اور سینکڑوں کیمرے نکل آتے تھے۔جس دکان میں بھی جاؤ ، سودے کے متعلق بات بعد میں ہوتی ، پہلے اخبار ہمارے سامنے کر دیا جاتا تھا۔اور اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ وہ ہمیں جانتے ہیں اور اس بات کا اظہار وہ بڑی خوشی اور بشاشت سے کرتے تھے۔میرا بتانے کا یہ مطلب ہے کہ ہر گھر میں ہمارا یہ پیغام پہنچ گیا کہ اسلام لا دیا تباہ ہو جاؤ۔کیونکہ میری باتوں کا خلاصہ یہی تھا کہ اپنے رب سے تعلق پیدا کر دور نہ تباہی تمہارے سامنے ہے۔186