تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 171 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 171

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبه جمعه فرموده 25 اگست 1967ء کی دیواروں کے، جن کی سجاوٹ کیلوں (پھل) سے کی گئی تھی۔پھر میں نے ان اشعار میں سے ایک شعر پڑھا لیکن بیدار ہونے کے بعد وہ مجھے یاد نہیں رہا۔پھر میں نے دائیں طرف دیکھا، وہ دو منزلہ کمرہ، جو ایک ہی کمرہ دائیں بازو کا مجھے نظر آرہا تھا اور سجا ہوا تھا۔اس کی دوسری منزل اتنی بڑی تھی، جتنی یہ ہماری چھت ہے۔اس کی پوری دیوار پر ایک کم عمر لڑکی کی تصویر ہے اور جب میں نے اس کو غور سے دیکھنا شروع کیا تو وہ مجھے ایک شبیہ نظر آئی، جس کے سر پر دوپٹہ تھا اور سر آگے جھکا ہوا تھا۔جیسا کہ وہ کوئی مسلمان لڑکی ہو۔پھر میں نے دیکھا کہ وہ نماز کی (قیام کی ) حالت میں ہے۔یعنی اس نے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔پھر جب میں نے غور کیا تو میں نے اس کے ہونٹوں کو ہلتے پایا اور میری طبیعت پر یہ اثر ہوا کہ یہ سورۃ حمد پڑھ رہی ہے۔اور ہونٹ اس کے ہل رہے تھے۔اس کے بعد وہ شخص، جو ہمیں وہاں لے گیا تھا، اس وقت ذہن میں نہیں تھا کہ وہ کون ہے؟ اور نہ بعد میں ہی ذہن میں آیا، اس نے کہا آئیں، آپ کو عجائب گھر اس قلعہ کا دکھا ئیں۔چنانچہ میں اور منصورہ بیگم اٹھے اور اس کے ساتھ گئے۔وہ ہمیں بائیں طرف لے گیا۔اس کمرے کی طرف جو سامنے کی دیوار کے پہلو میں ( دوسرے بازو کا ایک ہی کمرہ ) نظر آتا تھا۔جب ہم اس کے اندر داخل ہوئے تو میں نے دیکھا کہ داہنی طرف نوجوانوں کی پانچ تصویریں ہیں، جو گتہ کو کاٹ کر بنائی گئیں ہیں اور ان کے قد ساڑھے پانچ فٹ یا چھ فٹ نہیں بلکہ وہ تصویر میں بڑے سائنہ میں بنائی گئیں ہیں اور قریبا دس فٹ قد ہیں ان کے۔یہ مجھے یاد نہیں رہا، ان میں سے تین نوجوان مرد اور دو نو جوان لڑکیاں تھیں یا دومرد اور تین نوجوان لڑکیاں تھیں۔لیکن وہ شکلیں کارڈ بورڈ کاٹ کر بنائی گئیں ہیں اور وہ پہلو بہ پہلو کھڑی کی ہوئی ہیں۔جس وقت میں نے اس طرف منہ کیا تو ان کے ہونٹ ہلنے شروع ہوئے ، جس طرح وہ اپنا تعارف کروانا چاہتی ہیں۔اور اس شخص نے ، جو ہمیں لے جار ہا تھا، کہا کہ یہ ہم میں سے وہ لوگ ہیں، جو مر چکے ہیں۔اس پر میں نے اس کو جواب دیا کہ تم میں سے جو مرچکے ہیں، ان میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اور یہ کہ کر میں بائیں طرف گھوما اور اس عجائب گھر کی طرف چلا گیا، جو وہ مجھے دکھانا چاہتا تھا۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اس رؤیا کے بعد میری طبیعت میں بڑی بشاشت پیدا ہوئی اور میں نے فیصلہ کیا کہ اس سفر پر مجھے ضرور جانا چاہئے، اللہ تعالٰی برکت کے سامان پیدا کرے گا۔یہ رویا اس قسم کی ہے کہ الفاظ اس کو بیان نہیں کر سکتے۔اس وقت تک بھی میری روح اور میرا دماغ اور میرا دل اور میرا جسم اس کا سرور محسوس کر رہے ہیں۔چونکہ یہ بڑی اہم رہی تھی اور انسان کی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ، اس لئے میں نے اپنے گھر میں محترمہ 171