تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 170
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اگست 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قلعے کی دیوار کے ہر ذرہ سے روشنی چھن کے باہر آ رہی ہے۔اور وہ روشنی مختلف رنگوں کی تھی یعنی سرخ، زرد، سبز اور گلابی وغیرہ۔میں ان رنگوں کو گن نہیں سکا۔بہر حال وہ مختلف رنگ تھے اور ان کے ملنے سے نہایت ہی خوبصورت منظر بنتا تھا۔اتنا خوبصورت کہ میں اپنی پوری توجہ کے ساتھ اس حسن میں کھویا گیا اور ایک لمبا عرصہ میں خود فراموشی کے عالم میں الہی حسن کے اس حسین منظر میں گم رہا۔پھر کچھ عرصہ بعد میں نے اس حسن کی تفصیل پر غور کرنا شروع کیا۔جس جگہ یہ کا وچ تھا ، وہ دوسری منزل کے چھت کے عین سامنے، اس سے ذرا نیچے تھا۔یعنی ہمارے سامنے دوسری منزل کی چھت کے نیچے وہ جگہ آتی تھی۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ڈیوڑھی کی چھت دو منزلوں سے بھی اوپر تیسری منزل تک چلی گئی تھی۔جب میں نے تفصیلی غور کرنا شروع کیا تو میری پہلی تفصیلی توجہ ڈیوڑھی کے اس حصہ پر پڑی، جو دوسری منزل کی چھت کے اوپر نکلا ہوا تھا۔اور کافی غور کرنے کے بعد میں نے یہ دیکھا کہ قریب 55-60 فٹ چوڑی ڈیوڑھی کے اوپر نہایت خوبصورت رنگوں سے لکھا ہوا، یہ الہام حضرت مسیح موعود دو علیہ الصلوة والسلام کا میرے سامنے نمودار ہوا۔أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اسے دیکھ کر میرے اندر ایک عجیب روحانی کیفیت پیدا ہوئی۔پھر میں نے اس حسین اور منور دیوار پر اور زیادہ تفصیلی غور کرنا شروع کیا تو میں نے دیکھا کہ جو سبز رنگ کے قطعے دیوار کے اوپر مجھے چار لائنوں میں نظر آتے ہیں اور نظر کو وہ ایک چوکھٹا سا معلوم ہوتا ہے، وہ محض خوبصورتی کے لئے ہی نہیں بلکہ وہ اشعار ہیں۔اور ساری دیوار کے اوپر سبز رنگ میں لکھے ہوئے ہیں۔کہیں وہ شعر ( پورا قطعہ ) مربع بناتے ہیں اور کہیں ایک شعر ( دو مصرعے) ایک مستطیل بنارہے ہیں۔اور ان کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ ساری دیوار کے اوپر سجایا گیا ہے۔اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ میرا اسہرا ہے۔اور مجھے خیال آتا ہے کہ مجھے ان لوگوں نے بتایا ہی نہیں تھا اور میری شادی کا انتظام کر دیا ہے اور میر اسہرا یہاں اس خوبصورتی کے ساتھ لکھ دیا ہے۔پھر میں نے اس سجاوٹ پر اور غور کیا تو میں نے یہ دیکھا کہ ساری دیوار کے اوپر وہ سارے پھول اور اشعار اور أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ جو نظر آتے تھے ، وہ خشک میووں بادام اور پستہ وغیرہ سے بنائے گئے ہیں اور ان کو اس طرح سجایا گیا ہے کہ شکلیں الفاظ کی نظر آرہی ہیں اور ان کے نیچے سے روشنی چھن کے آرہی ہے۔سوائے ہر دو برج 170