تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 172
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اگست 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ام متین صاحبہ کو، بڑی پھوپھی جان تو اب مبار کہ بیگم صاحبہ کو اور کراچی میں چھوٹی پھوپھی جان نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کو اور بعض دوسرے عزیزوں کو یہ رویا سنادی۔خیر ہم یورپ کے سفر پر روانہ ہوئے۔وہاں جس رنگ میں برکتوں کا نزول ہوا ہے، اس کے بیان سے قلم قاصر ہے۔لنڈن میں ہی مجھے ایک احمدی بہن کی رؤیا کا علم ہوا، جو ان کے ایک عزیز نے مجھے لکھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کا تعلق دراصل اس رویا سے ہے، جس کو میں نے ابھی آپ کے سامنے بیان کیا ہے۔وہ دوست لکھتے ہیں ( خواب دیکھنے والی ان کی ایک عزیزہ ہے۔) کہ پندرہ اور سولہ جولائی کی درمیانی شب بوقت چار بجے صبح خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا وسیع میدان ہے، جو ایک بڑے شہر جتنی جگہ میں سمایا ہوا ہے اور سبزہ زار ہے۔اس میدان کے درمیان ایک گلدستہ پڑا ہوا ہے، جس میں نہایت ہی خوبصورت پھول لگے ہوئے ہیں، جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ گلدستہ ایک درخت کی شکل میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے اور بالآخر ایک تناور درخت بن کر اس تمام میدان میں سایہ میگن ہو جاتا ہے۔اتنے میں ایک بزرگ رونما ہوتے ہیں، جو سفید لباس میں ملبوس ہیں۔اور ان کا حلیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملتا ہے۔وہ بزرگ فرمارہے ہیں کہ جو شخص اس تناور درخت کے نیچے پناہ نہیں لے گا، وہ تباہ ہو جائے گا۔اس پر حمیدہ بیگم ( خواب دیکھنے والی) نے پوچھا کہ یا حضرت! کون سے درخت کے نیچے؟ جس پر اس بزرگ نے فرمایا، حضرت ناصر کے درخت کے نیچے۔گویا وہ گلدستہ، جس نے ایک تناور درخت کی صورت اختیار کی ، وہ جس شخص کا ہے، اس سے مراد اس خاکسار کا وجود ہی ہے۔پھر اس کے بعد دیکھا کہ اس میدان کے کونہ میں ایک بہت بڑی دعوت کا انتظام ہو رہا ہے، جس میں بہت عمدہ عمدہ کھانے بہت بڑی تعداد میں لگے ہوئے ہیں اور جس میں شمولیت کے لئے جماعت کے دوست جمع ہورہے ہیں۔اس میں دہی کے کونڈے بھی ہیں اور دو سیاہی مائل کتے ان دہی کے کونڈوں کی طرف لپکتے ہیں۔جس پر حمیدہ بیگم نے شی شی کر کے ان کتوں کو ڈرانے کی کوشش کی تو ان بزرگ صاحب نے فرمایا ، نہ آپ ان کو رہنے دیں، یہ خود بخود ہٹ جائیں گے۔اس پر آنکھ کھل گئی۔تو گویا یہ خواب بھی میری رویا سے ملتی جلتی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ مومن کو و یا دکھائی بھی جاتی ہے اور اس کے لئے دوسروں کو بھی رؤیا دکھائی جاتی ہے۔ویسے تو سینکڑوں کی تعداد میں دوستوں نے مبشر خواہیں دیکھیں۔لیکن میں نے ان میں سے آج کے خطبہ میں سنانے کے لئے صرف دو کا انتخاب کیا ہے۔اب ایک دوسری خواب ہے، جو ان واقعات کی طرف اشارہ کر رہی ہے، جو وہاں ہونے تھے۔یعنی اس سفر کے نتیجہ کے متعلق ہے۔جو کسی کے خیال میں بھی نہیں آسکتا۔172