تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 158 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 158

اقتباس از خطاب فرموده 12 اگست 1967 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم چاہیں تو اس مختصری زندگی اور اس کے آرام اور اس کی عزت اور اس کے عیش کو خدا کی راہ میں قربان کر دیں اور اپنے رب سے یہ امید رکھیں کہ وہ اس دنیا میں بھی آپ کو اور آپ کی نسلوں کو اور اس دنیا میں بھی آپ کو اور آپ کی نسلوں کو اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کرے گا اور ان وعدوں کو آپ کے لئے اور آپ کی نسل کے لئے پورا کرے گا، جو وعدے کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے ہیں۔میں نے آج بچیوں اور بچوں سے بات کرتے ہوئے انہیں اس طرف متوجہ کیا تھا کہ تم اپنے ماں، باپ سے جا کر یہ کہو کہ تم نے ایک حد تک اپنی زندگی آرام میں گزار لی ہے، اس وقت اللہ تعالیٰ ایثار اور قربانی کی طرف ہمیں بلا رہا ہے، اگر تم نے ، جو ہمارے ماں، باپ ہو، ہماری خاطر ( اگر اپنی خاطر نہیں) وہ قربانیاں نہ دیں، جن کا اللہ ہم سے مطالبہ کر رہا ہے تو ہماری زندگی تباہ کر دو گے ہم لوگ۔پس آپ کو اگر اپنے لئے نہیں تو کم از کم اپنی نسلوں کو اللہ تعالیٰ کے قہر اور غضب سے بچانے کے لئے وہ قربانی دینی پڑے گی، جس کی توقع اللہ ہم سے آج کر رہا ہے اور جس قربانی کے بعد ہم سے وہ وعدے کئے گئے ہیں کہ جو "" وعدے پہلی قوموں سے نہیں کئے گئے۔ہمیں وہ عظیم بشارتیں ملی ہیں، جو پہلوں کو نہیں ملیں“۔جوانعام آپ لوگوں کے لئے اس دنیا میں خدا نے مقدر کیا ہے، وہ ان لوگوں کے لئے مقدر نہیں تھا، جو بعثت نبوی سے 300 سال بعد پیدا ہوئے۔دیکھو، اسلام فاتح ہوا اور پھر تنزل میں چلا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت دی ہے کہ اب کہ جب اسلام فاتح ہوگا اور دنیا پر چھا جائے گا تو کبھی مغلوب نہیں ہوگا۔پھر قیامت تک غیر مسلم چوہڑے اور چماروں کی طرح دنیا میں رہ جائیں گے۔یہ الفاظ ہیں، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے استعمال کئے ہیں، چوہڑے چماروں کی طرح وہ دنیا میں رہیں گے۔آپ یہ پسند کرتی ہیں کہ آپ کی نسلیں اللہ تعالیٰ کے انعامات اور اس کی برکتوں اور اس کے فضلوں کی وارث بنیں یا آپ یہ پسند کرتی ہیں کہ آپ کی نسلیں چوہڑوں اور چماروں میں شامل ہونے والی ہوں ؟ اگر آپ چاہتی ہیں اور یقیناً آپ میں سے ہر ایک عورت یہ چاہتی ہے کہ آپ کی نسل اور اولا داور پھر ان کی اولاد اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث ہو تو اس وقت بہت سی قربانیاں دینی پڑیں گی ، ان کے لئے۔پھر دنیا بدل جائے گی ، اسلام کا غلبہ ہوگا ، پھر اس رنگ کی قربانی کا سوال ہی نہیں ہوگا۔آج تو ہم کہتے ہیں، جو قرآن نے پردہ کہا ہے، وہ کرو۔کوئی ہمارے پاس دنیا کی طاقت نہیں ہے۔اگر آپ ہماری یہ بات مانتی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرتی ہیں۔یہ ثواب ان عورتوں کو نہیں ملے گا، جو آپ کی قربانیوں کے نتیجہ میں خدا کا فضل حاصل کرنے والی ہوں گی۔کیونکہ اس وقت حکومت کہے 158