تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 159 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 159

اقتباس از خطاب فرموده 12 اگست 1967 ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم گی کہ جو ننگے منہ سے باہر نکلے گی، اس کو سزادی جائے گی۔پھر دیکھیں، کون نکلتی ہے باہر؟ آج تو آپ آزاد ہیں۔دور استے ہیں، آپ کے سامنے۔جس کو چاہیں اختیار کر لیں۔اس وقت صرف ایک راستہ ہو گا۔دوسرا راستہ ہی کوئی نہیں ہوگا اور ثواب بھی کوئی نہیں ہوگا۔اس وقت صحیح راستہ اختیار کرنایا نہ کرنا، آپ کی مرضی پر منحصر ہے۔اور صحیح راستہ اختیار کرنے کے نتیجہ میں اس وقت آپ کو بڑے انعامات کا وعدہ دیا گیا ہے۔وعدے تو پورے ہونے ہیں۔مجھے تو یہ فکر رہتی ہے کہ کہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح اگلی نسل میں پورے نہ ہوں۔میرے دل میں یہ شدید خواہش ہے۔میں سمجھتا ہوں ، آپ میں سے بھی ہر ایک کے دل میں شدید خواہش ہوگی کہ یہ وعدے جلدی پورے ہوں۔ہم بھی دیکھیں اور ہماری نسلیں بھی دیکھیں۔چالیس سال ان کو خدا نے جنگلوں میں ڈالا تھا۔پھر ایک نئی نسل پیدا ہوئی ہے، ان کی۔پھر ایک نئے رنگ میں تربیت اللہ تعالیٰ نے کی، تب وہ وعدہ جا کر پورا کیا۔بشارت تو بہر حال پوری ہوتی ہے۔لیکن بشارت کے متعلق یہ وعدہ نہیں کہ اس نسل کے حق میں بھی پوری ہوگی ، جو خدا تعالیٰ کا کہنا ہی نہ مانے۔پس بہت ہی بڑی ذمہ داری ہے اس وقت ، جو احمدی ہیں ، سمجھ دار، بڑی عمر کی عورتیں بھی اور مرد بھی ، ان کے اوپر۔اس ذمہ داری کو صحیح طور پر ادا کرنے کے نتیجے میں ہم ان عظیم بشارتوں کو قریب تر لا سکتے ہیں، جو ہمیں دی گئی ہیں۔اگر ہم سنتی کریں، اگر ہم غفلت سے کام کریں ، خدا کا وعدہ تو پورا ہوگا لیکن اس کے فضل آپ پر نہیں نازل ہوں گے، نہ آپ کی نسلوں پر۔پھر اس کے فضل ان نسلوں پر نازل ہوں گے، جو خدا کی راہ میں انتہائی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہوں گی۔اور دیں گی بھی بشاشت سے وہ قربانیاں۔اسی لئے خدا تعالیٰ کی رضا کے ٹھنڈے سائے میں وہ رہنے والی ہوں گی۔میرا دل یہی کرتا ہے ، آپ کا دل بھی یہی کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے سائے وہاں سے شروع ہو کر قیامت تک نہ چلیں۔بلکہ ہم سے شروع ہو کر قیامت تک چلیں۔تو اس چیز کو سامنے رکھیں ، آپ۔جماعت کے لئے ، اسلام کے غلبہ کے لئے یہ زمانہ بڑا نازک ہے۔اس بڑے نازک دور میں ہماری جماعت داخل ہو چکی ہے اور انتہائی قربانیوں کا اس وقت حالات مطالبہ کر رہے ہیں۔اور شاید اور بھی مطالبہ کریں۔ان مطالبات کے مطابق آپ کو اپنی زندگیاں گزارنی ہوں گی۔اور مطالبات کے مطابق آپ کو جان کی بال کی ، وقت کی خواہشات کی ، اور عادات کی قربانی دینی پڑے گی۔کیونکہ اس کے بغیر ہم اسلام کی آخری فتح کو قریب تر نہیں لا سکتے۔اور اس کے بغیر موجودہ نسل جو ہے، وہ ان انعاموں کی وارث نہیں بن سکتی ، جن انعاموں کا ان کو وعدہ دیا گیا ہے“۔፡፡ مطبوعہ روز نامہ الفضل 07 جون 1972 ء ) 159