تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 126 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 126

خطبہ عیدالاضحیہ فرمود و 22 مارچ 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ہے کہ تم اس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے ابھی تیاری کرو۔اور جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں مبعوث ہوں تو تمہاری کوششوں کے ذریعہ تمہارے نمونہ کی وجہ سے تمہارے خاندان میں وقف کا جو سلسلہ جاری ہو، اس کے نتیجہ میں قوم کے اندروہ تمام استعدادیں پیدا ہو جائیں ، جن کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشن کی کامیابی کے لئے ضرورت ہے۔تو اڑھائی ہزار سال تک اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کو اس لئے تیار کیا تھا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروں کے نیچے آکر آپ کی تربیت میں، آپ کی قوت قدسیہ سے فیض حاصل کرنے کے بعد وہ قوم بنے ، جو اللہ تعالیٰ انہیں بنانا چاہتا تھا۔لیکن ان میں قبول تربیت کی قوت اور استعداد پیدا کرنے کے لیے اس قوم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے خاندان کو وقف کرایا۔یہ بھی یادرکھیں کہ کامل اور حقیقی نشوونما کے بغیر خالی استعداد کوئی کام نہیں کرتی۔بہت سے بڑے اچھے سائنسدان ہوتے ہیں اپنی استعداد کے لحاظ سے لیکن اپنے ماحول کے نتیجہ میں وہ بالکل ان پڑھ اور جاہل رہ جاتے ہیں۔تربیت ان کی نہیں ہوسکتی، تعلیم کا انتظام نہیں ہو سکتا۔تو کسی مقصد کے حصول کے لئے اگر ایک آدمی یا ایک قوم کی ضرورت ہو تو دو چیزوں کا اس فرد واحد یا اس قوم میں پایا جانا ضروری ہے۔ایک استعداد کا اور ایک اس استعداد کی صحیح تربیت اور اس سے کام لینے کا۔پس استعداد پیدا کرنے کا کام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سپرد کیا گیا تھا۔اور اس کے لئے قرآن کریم نے وضاحت سے بیان کیا ہے کہ ان کو کہا گیا تھا کہ اپنی زندگی خدا کی راہ میں وقف کرو۔ایک عظیم قربانی اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی نسل سے لی۔لیکن اس قربانی کی غرض یہ تھی کہ جس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں مبعوث ہوں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل، جس نے بعد میں عرب میں آباد ہونا تھا ، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو۔اور ان قربانیوں کے دینے کے لئے تیار ہو، جن کا اسلام نے ان سے مطالبہ کرنا تھا۔اڑھائی ہزار سالہ تربیت کے نتیجہ میں عرب کے اندر یہ استعداد پیدا ہو گئی تھی۔جس طرح لکڑی کے اندر آگ چھپی ہوئی ہوتی ہے اور جب دیا سلائی دکھائی جائے تو وہ آگ بھڑک اٹھتی ہے، اسی طرح یا جس طرح ایٹم کے اندر بہت بڑی طاقت موجود ہوتی ہے لیکن ایک خاص میکانزم کے ذریعہ سے اس طاقت کو، جو چھپی ہوئی ہوتی ہے، ظاہر کر دیا جاتا ہے، اسی طرح عرب کی قوم اڑھائی ہزار سالہ تربیت کے نتیجہ میں ان ذمہ داریوں کے نبھانے کے لئے تیار ہو چکی تھی ، جو ذمہ داریاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی تعلیم کی رو سے سب سے پہلے اس قوم پر ڈالنی تھیں۔126