تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 125
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ عید الاضحیہ فرمود 22 مارچ 1967ء خدا تعالی کی رضا کے لئے وہ قربانی پیش کریں ، جس کی طرف وہ بلا رہا ہے خطبہ عیدالاضحیہ فرمودہ 22 مارچ 1967ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔جمعہ کے دو خطبوں میں (مطبوعہ الفضل 31 مارچ والفضل 9 اپریل 1967 ء ) میں، میں نے بطور تمہید کے اپنی بہنوں کو مخاطب کیا تھا۔آج میں اپنے اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔آج کا دن، جو قربانیوں کی عید کا دن ہے، اسے میں نے اس مضمون کے شروع کرنے کے لئے اس لئے منتخب کیا ہے کہ میرے مضمون کی ابتداء وقف ابراہیمی سے ہی ہوتی ہے۔ایک تو مضمون کافی لمبا ہے اور کئی خطبوں میں غالبا ختم ہو گا۔دوسرے آج کے موسم کا یہ تقاضا ہے کہ اس مضمون کا بالکل ابتدائی حصہ اختصار کے ساتھ آج یہاں بیان کیا جائے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خانہ کعبہ کی بنیاد کم وبیش اٹھارہ ، ہیں مقاصد اور اغراض کے پیش نظر رکھی گئی تھی۔اور قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان مقاصد کا حصول حقیقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تعلق رکھتا تھا۔لیکن بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قریباً اڑھائی ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی تیاری کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے وقف کا مطالبہ کیا تھا۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذمہ جو کام کیا گیا تھا، وہ یہ تھا کہ اس لمبے عرصہ میں ایک تو بیت اللہ کی آبادی کا انتظام کریں ، اس کی صفائی کا خیال رکھیں، خانہ کعبہ کے طواف کے لئے جو لوگ آئیں ، ان کی خدمت کریں۔اور جیسا کہ طهرا الخ کے حکم سے ظاہر ہے ، سب سے اہم فریضہ اس خاندانی وقف کا یہ تھا کہ وہ یہ ساری تیاری کریں، اس نبی اور اس نبی کی امت کے لئے ، جو نماز کو اس شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرے گی کہ اس میں قیام بھی ہوگا ، اس میں رکوع بھی ہوگا اور اس میں سجدہ بھی ہوگا۔تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ تمہارے ذریعہ سے خانہ کعبہ کی بنیادیں، جو اٹھوائی جا رہی ہیں اور بنوائی جا رہی ہیں، ان کا مقصد یہ نہیں کہ وہ تمام اغراض تمہارے اور تمہارے خاندان کے ذریعہ سے حاصل کئے جائیں گے، جن اغراض کے لئے خانہ کعبہ اللہ تعالیٰ دنیا میں قائم کر رہا ہے۔بلکہ تمہارے ذمہ یہ بات 125