تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 127 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 127

خطبہ عید الاضحیہ فرمود 22 مارچ 1967ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد چہارم اسلام تمام عالمین کے لئے بطور ہدایت کے دنیا کی طرف بھیجا گیا۔(اس میں کوئی شک نہیں۔) لیکن اسلام اور قرآن کریم کے پہلے مخاطب عرب تھے اور اگر عرب اس وقت مستعد نہ ہوتے ، ان کے اندر یہ استعداداور طاقت پیدا نہ ہو چکی ہوتی تو پھر اسلام کا غلبہ ممکن نہ ہوتا۔کیونکہ پہلے مخاطب ( یعنی قوم عرب) ناکام ہو جاتے اور بڑا انتشار دنیا میں پیدا ہو جاتا۔تو ضروری تھا کہ ایک قوم کی قوم کو ان ذمہ داریوں کے نباہنے کے لئے تیار کیا جائے۔اور اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وقف کے لئے کہا گیا۔اور آپ نے وقف کیا خود کو بھی ، اپنے بیٹے اور نسل کو بھی۔اور ان کے سپر د جو کام کیا گیا، وہ تھا کہ هْرَا بَيْتِيَ لِلطَّابِفِينَ میرے اس گھر کو ظاہری اور باطنی پاکیزگی سے بھر دو۔دوسرے یہ کہ دعائیں کرو کہ رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنا اے خدا! ہم خوشی کے ساتھ اور بشاشت کے ساتھ تیری رضا کے حصول کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں لیکن جب تک تیر افضل شامل حال نہ ہو، ہماری یہ قربانی قبول نہیں ہوسکتی۔اس لئے اب فضل فرما۔تقبل منا ہماری اس قربانی کو تو قبول کرلے۔پھر اپنی نسل کے لئے دعا کرتے رہو، وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَكَ کہ جس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوں تو میری یہ ذریت اور نسل آپ کو مان لے اور قبول کرلے اور ان ذمہ داریوں کو نباہنے کے لئے تیار ہو جائے ، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کندھوں پر ڈالیں۔ان کو امت مسلمہ بنائیو۔اس وقت ان سے کوئی غفلت کوئی غلطی یا کوتا ہی سرزد نہ ہو۔پھر اس خاندان نے انتقاشان دارنمونہ دکھایا ہے کہ اگر اس اڑھائی ہزار سالہ تاریخ پر آپ نگاہ ڈالیں تو ان میں سے کم ہی خاندان ایسے ہوں گے، جو عرب سے باہر نکلے ہوں۔حالانکہ ان کی ہمسائیگی میں بڑی بڑی سلطنتیں قائم ہو چکی تھیں اور وہ بڑے ذہین لوگ تھے اور بڑی فراست اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی تھی۔اور قربانی کرنے والے فطر تألیڈر ہوتے ہیں اور قیادت کی استعداد ان کے اندر ہوتی ہے۔اگر وہ ان بادشاہوں کے دربار میں جاتے تو بڑے ہی دنیوی فوائد اٹھا لیتے لیکن صرف انکاؤ کا عرب باہر نکلے اور انہوں نے بھی اپنا تعلق مکہ سے قائم رکھا ہے۔تو لگا تار اڑھائی ہزار سال تک قربانی دیتے چلے جانا، نسلاً بعد نسل کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔اس کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اور حضرت اسماعیل کو بڑی ہی قربانیاں دینی پڑیں، اپنے ماحول کو مطہر، پاک اور مصفا بنانے کے لئے۔اور بڑی ہی دعائیں کرنی پڑیں ، اپنے رب کے حضور۔اگر وہ دعائیں نہ ہو تیں تو یہ قوم اس قسم کی تربیت حاصل نہ کر سکتی۔127