تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 123 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 123

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ عید الفطر فرموده 13 جنوری 1967ء آپ کو خوش پوش نظر آئیں گے اور اندر سے وہ بہت غریب ہوں گے، مانگ مانگ کے گزارہ کر لیتے ہیں۔مانگ کے کپڑے پہن لئے۔مانگ کے کھالیا اور کام کوئی نہ کیا۔تو یہ ذہنیت بڑی گندی ہے، اس سے بچنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ جماعت کے افراد کو اس سے محفوظ رکھے۔تو جس کو ضرورت ہے ، وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کرے۔اگر اور کوئی کام نہیں ملتا تو مزدوری کرے۔آخر بڑے بڑے کبار صحابہ جب ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تو بعض انصار نے کہا کہ ہمارے پاس مال ہے، آؤ مل کر بانٹ لیں۔انہوں نے کہا، ہمیں تمہارا مال نہیں چاہیے۔درانتی ہے، کلہاڑی ہے اور رسہ ہے۔جنگل سے لکڑیاں کاٹ لاؤں گا اور انہیں بیچ کر گزارہ کروں گا۔تو ایسا بزرگ صحابی مدینہ میں آکر ذا متربہ ہوگا۔کیونکہ اس کے کپڑے گرد آلود ہوں گے۔تو مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ مانگنے سے، دوسرے کا سہارا لینے سے بچنے کی انتہائی کوشش کرو۔ذامربہ بن جاؤ۔اور کچھ نہ ملے تو مزدوری کر لو۔لیکن دوسری طرف دوسروں کو کہا کہ تمہارا یہ بھائی اتنا با غیرت ہے کہ اس کو ایک لمحہ کے لئے بھی یہ پسند نہیں کہ تمہارے آگے ہاتھ پھیلائے۔اس نے جب اور کچھ نہیں ہوا تو مزدوری کرنی شروع کر دی۔دیکھ لو، اس کے کپڑوں کو ! دیکھ لو، اس کے چہرے کو! یہ ذامتر بہ ہے یا نہیں ؟ تو اس کا ذا متربہ ہوتا ، اس کی غیرت کی دلیل ہے۔اس بات کی دلیل ہے کہ یہ شخص مانگنے کو عار سمجھتا ہے۔لیکن اس کے باوجود ملک کے حالات کے لحاظ سے، اس کے اپنے خاندان کے حالات کے لحاظ سے کہ بچے زیادہ ہیں اور یہ اتنا کما نہیں سکا۔اس کے گھر میں پھر بھی بھوک نظر آتی ہے، اب تمہارا فرض ہے کہ اپنے اس بھائی کی مدد کرو۔لیکن آپ اپنے ان بھائیوں کی مدد نہیں کر سکتے ، جب تک آپ اپنی زندگی کو سادہ نہ بنائیں۔خصوصاً کھانے کے معاملہ میں۔تو اب وقت ہے کہ ہم ایک تو تحریک جدید کے اس مطالبہ پر نئے سرے سے عمل پیرا ہو جائیں، جس کو ہم ایک حد تک بھول چکے ہوئے ہیں کہ اپنے کھانے میں سادگی کو اختیار کریں۔اور نہ صرف اپنے لئے روپیہ بلکہ اپنے بھائی کے لئے کھانا بھی بچائیں۔جب آپ کھانا ضائع کرتے ہیں تو دو چیزوں کا ضیاع ہوتا ہے۔آپ کے روپے کا اور آپ کے بھائی کی غذا کا۔اگر آپ مثلاً آدھ سیر آٹے کی بجائے چھ چھٹانک کھا ئیں تو آپ کے دو چھٹانک کے پیسے بچ گئے۔آپ کے بھائی کے لئے دو چھٹا تک گندم بچ گئی۔تو کھانا کم کھائیں، کھانا سادہ کھائیں۔تا کہ وہ لوگ، جن کو آپ سے زیادہ ضرورت ہے، ان کے پیٹ بھر جائیں۔123