تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 122 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 122

خطبہ عید الفطر فرمودہ 13 جنوری 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم نجات حاصل کرنے کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔غلامی سے نجات، سب سے پہلے اپنے نفس کی نجات اور ان آزادی ہے۔اور اس کے بعد اپنے بھائیوں کی آزادی ہے۔شیطان کی غلامی سے اور شیطان کا غلام ہمارا بھائی اس طرح بھی بن جاتا ہے کہ اس کا پیٹ نہیں بھر رہا ہوتا۔اور بھوکا رہنے کی وجہ سے اور اپنے بچوں کو بھوکا دیکھتے ہوئے، بہک جاتا ہے اور اپنے خدا کو بھول جاتا ہے۔اور یہ نہیں سوچتا کہ ایسے ابتلاء تو بطور امتحان کے ہوتے ہیں۔ان میں کامیاب ہونے کی اور پاس ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔نہ یہ کہ آدمی فیل ہو اور نا کام ہو اور خدا کے غضب اور غصہ کو سہیڑ لے۔یہ وقت اور سال کا یہ حصہ ، جس میں اب ہم داخل ہوئے ہیں، اس میں غذا کی بڑی قلت پائی ہے۔یہ سال جو گزررہا ہے، اس کی غذا جہاں تک پیداوار کا تعلق ہے، پیدا ہو چکی ہے۔یعنی ربیع کی فصل بھی انسان نے کاٹ لی اور خریف کی فصل بھی کاٹ لی ہے۔ملک نے سال رواں میں جو غلہ پیدا کرنا تھا، وہ کر دیا۔اس کے باوجود کچھ قلت ہے، غذا کی۔آئندہ سال کی پہلی فصل ربیع اس وقت ہوئی جا چکی ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق ابھی تک بادلوں نے مینہ نہیں برسایا۔انہیں اس کا اذن نہیں ہوا کہ میرے بندوں کی زمینوں کو جا کر سیراب کرو۔مغربی پاکستان کا بڑا حصہ باران رحمت کا ابھی منتظر ہے۔اس سے یہ ڈر پیدا ہوتا ہے کہ کہیں آئندہ فصل خراب نہ ہو۔اگر خدانخواستہ آئندہ فصل خراب ہو گئی تو ہماری غذائی قلت بہت زیادہ ہو جائے گی۔اور بڑی تکلیف میں ہم اپنے آپ کو پائیں گے۔بھوک ایک تو كَادَ الْفَقْرُ اَنْ يَكُونَ كُفْرًا ایک غلامی بنتی ہے نا ؟ بھوک کے نتیجہ میں ہمیں ایک اور قسم کی غلامی بھی نظر آرہی ہے۔اور اس حدیث کے یہ بھی ایک معنی ہیں کہ جب کوئی قوم بھوک سے مرنے لگتی ہے تو وہ غیر قوموں کی غلامی اختیار کرتی ہے۔چنانچہ وہ اقوام جو ، ان قوموں کو ، غلہ مہیا کرتی ہیں اور غذا مہیا کرتی ہیں، جہاں کمی ہو۔وہ اپنے مالکانہ اثر و رسوخ اور سیاسی دباؤ کو استعمال بھی کرتی ہیں اور غلہ لینے والی قو میں اپنے آپ کو پوری آزاد محسوس نہیں کرتیں۔اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو اس سے محفوظ رکھے۔پس ایک تو دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ رحمت کی بارش برسائے اور ہمارے ملک میں غذا کی قلت نہ ہو۔دوسرے ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو قرآن کریم میں یہ تعلیم دی ہے کہ یتیم اور مسکین کو کھانا کھلاؤ ، اس کو نہیں بھولنا چاہیے۔مِسْكِينَا ذَا مَتْرَبَةٍ کے ایک معنی یہ ہیں کہ جس نے اپنی طرف سے مال کمانے کی پوری کوشش کی ہے۔اگر اس کو اور کچھ نہیں ملا تو اس نے مزدوری کی ہے اور وہ گرد آلود ہے اور ذامتربة ہے۔پس ذا متربة کے ایک معنی یہ ہیں کہ ایسا مسکین، جس کو مانگنے کی عادت نہیں۔بہت سارے لوگ 122