تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 121 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 121

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ عید الفطر فرموده 13 جنوری 1967ء منتج ہوتی ہے۔بھوک کے نتیجہ میں انسان بسا اوقات شیطان کے دام فریب میں آجاتا ہے اور اپنے رب کو چھوڑ دیتا اور بھول جاتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کو رزاق سمجھنے کی بجائے وہ شیطان کے پاس اس شرط پر اپنی روح کو بیچ دیتا ہے ( جیسا کہ ہماری بعض کہانیوں میں شیطان کے پاس روح کو بیچنے کا ذکر بھی ہے کہ وہ شیطان کے پاس اپنی روح کو اس شرط پر بیچتا ہے۔) کہ وہ اس کو دنیوی اموال اور اسباب اور متاع مہیا کرے گا۔اور اس کی روح شیطان اس لئے خرید لیتا ہے کہ خدا کو یہ کہہ سکے کہ میں نے کہا تھا، اے رب! کہ میں تیرے بندوں کو بہکاؤں گا۔دیکھ ! یہ تیرا بندہ تھا مگر تیرا بندہ نہیں بنا۔اور دیکھ ! میں اس کی روح کو جہنم میں پھینک رہا ہوں۔اس کو میں نے اس قدر گمراہ ، طافی اور منکر اور سرکش بنا دیا ہے کہ تیرے غضب کا مورد ہو گیا ہے۔تیرے قہر کی تجلی نے جلا کر اسے کوئلہ کر دیا ہے۔تو بھوک بسا اوقات کمزور دل میں کفر پیدا کرتی ہے۔اس لئے اگر چہ اللہ تعالٰی نے یہاں بھوک کا ذکر کیا ہے لیکن چونکہ وہ بھی ایک بڑی وجہ تھی کفر کی ، اس لئے اس کو یہاں بیان کر دیا۔اور اصل مقصد فک رَقَبَة کا ہی ہے۔پہلے فقرہ میں اپنی گردن کو شیطان کی غلامی سے آزاد کرانا اور دوسرے فقرہ میں اپنے بھائیوں کی گردنوں کو شیطان کی غلامی سے آزاد کرانا مطلوب ہے۔وہ غلامی، جو بسا اوقات بھوک کے نتیجہ میں اور فقر اور محتاجی سے مجبور ہو کر انسان کو اختیار کرنی پڑتی ہے۔اسی لئے احادیث میں کثرت سے یہ روایت آتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر بڑے ہی تھی تھے۔اتنے بھی کہ اگر آپ کی سخاوت کے واقعات ، جوظاہر میں وقوع پذیر ہوئے ، اللہ تعالیٰ کا ہر بزرگ بندہ ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور کون زیادہ بزرگ ہوگا، بعض نیکیاں ظاہر میں کرتا ہے اور بعض اس رنگ میں کرتا ہے کہ کسی کو ان کا علم تک نہیں ہوتا۔تو جن کا ہمیں علم ہے، اگر ان کو بھی اکٹھا کیا جائے تو تاریخ ایسے تھی کی مثال دنیا کے سامنے پیش نہیں کر سکتی۔اس کے باوجود احادیث میں آتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں آپ کی سخاوت بہت بڑھ جاتی تھی۔اور اس کی مثال ایسی ہی بن جاتی تھی ، جیسے کہ خدا تعالیٰ کی رحمت کی ٹھنڈی ہوا بڑی تیز چل رہی ہو۔تو تیز ہوا کی طرح آپ کی سخاوت ان دنوں میں جوش میں آکر دنیا کے سامنے ظاہر ہو رہی ہوتی تھی۔پس رمضان کا تعلق کھانا کھلانے سے بڑا گہرا ہے۔چنانچہ بعض بزرگوں کا قول بھی ہمارے لٹریچر میں پایا جاتا ہے کہ جب رمضان آیا تو انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کے پڑھنے اور مستحقین کو کھانا کھلانے کا زمانہ آ گیا۔بس اب قرآن پڑھا کریں گے اور بھوکوں کی بھوک دور کرنے کی کوشش کیا کریں گے۔تو خصوصی تعلق ہے، رمضان کا بھوک دور کرنے کے ساتھ۔پس رمضان کو رحمت اور مغفرت اور غلامی سے 121