تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 120 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 120

خطبہ عید الفطر فرمودہ 13 جنوری 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم نے یہ کہا کہ اس نے روحانی بلندیوں تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی۔تو اس سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ نہ اس نے اپنی گردن شیطانی غلامی سے آزاد کی اور نہ اس نے یہ کوشش کی کہ اس کے بھائیوں کی گردنیں بھوک کی غلامی اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہوتیں۔اس کے ایک معنی یہ بھی کئے جاتے ہیں کہ غلاموں کو آزاد کرنا۔اپنی جگہ پر یہ معنی درست ہیں۔لیکن فَكُ رَقَبَةٍ اور عِشق مِنَ النَّارِ کے الفاظ وضاحت کے ساتھ ایک ہی مضمون کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔تو اگر چہ اس میں بھی بڑا ثواب ہے کہ ان لوگوں کو انسان آزادی کی فضا مہیا کرے یا آزادی کی فضا مہیا ہونے میں ان کی امداد کرے، جو انسان ظلم اور اپنی غفلت کے نتیجہ میں غلام بن چکے ہیں۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایک اس سے بھی زیادہ مظلوم اور قابل رحم غلام ہے۔جس کو آزاد کرانا اور کروانا ہمارے لئے زیادہ ثواب کا موجب ہے اور زیادہ رحمت کا موجب ہے اور زیادہ مغفرت کا موجب ہے۔اور وہ اپنا نفس ہے۔جب وہ شیطان کا غلام بن جاتا ہے اور خدا کی دی ہوئی آزادی سے محروم کر دیا جاتا ہے، یعنی وہ آزادی ، جو خدا کے قرب میں حاصل کی جاتی ہے۔وہ آزادی، جو خدا کی رحمت کے سایہ میں حاصل کی جاتی ہے۔وہ آزادی، جو خدا کی مغفرت کے احاطہ کے اندر حاصل کی جاتی ہے۔تو یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فک رَقَبَة کے سامان تو تھے مگر انسان نے اس طرف توجہ نہیں دی۔اور وہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔اور اس نے ان سامانوں سے فائدہ نہیں اٹھایا اور غلام کا غلام ہی رہا۔حالانکہ ہم نے ماہ رمضان کی عبادتوں کو خاص طور پر اس کے لئے اس لئے مقرر کیا تھا کہ اگر وہ کوشش کرے اور سعی کرے اور مجاہدہ کرے اور ہماری راہ میں قربانیاں دے، اس طرح پر کہ ہمارے لئے بھوکا رہے، ہماری خاطر ہمارے بھوکے بندوں کو کھانا کھلائے تو وہ اپنی گردن کو شیطان کی غلامی سے آزاد کروا سکتا تھا۔وہ ان زنجیروں سے آزاد ہوسکتا تھا، جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا کہ بڑی لمبی زنجیریں جہنم کے قید خانہ میں ڈالی جائیں گی۔لیکن اس نے ان سامانوں کے ہوتے ہوئے بھی، ان کی موجودگی میں بھی اپنی گردن کو شیطان کی غلامی سے آزاد نہیں کیا۔اسی طرح ایک اور ذمہ داری اس کے اوپر تھی۔اور وہ یہ تھی کہ اپنے بھائیوں کو بھوک کی اور شیطان کی غلامی سے آزاد کرے۔قرآن کریم نے یہاں الفاظ بھوک کے رکھے ہیں۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی وضاحت سے بتایا ہے، كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا“ کہ بھوک جو ہے، وہ کبھی کفر اور ضلالت پر 120