تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 119
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ عید الفطر فرمودہ 13 جنوری 1967ء موجودہ ایام میں ضروری ہے کہ ہم کھانے میں کمی اور سادگی اختیار کریں خطبہ عید الفطر فرمودہ 13 جنوری 1967ء تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے یہ آیہ کریمہ تلاوت فرمائی:۔فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ وَمَا أَدْريكَ مَا الْعَقَبَةُ فَتْ رَقَبَةٍ ل أو إطعم فِي يَوْمٍ ذِى مَسْغَبَةٍ يَّتِيْمًا ذَا مَقْرَبَةٍ أَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةِ (البلد) پھر فرمایا۔آج عید ہے، آپ سب کو اللہ تعالی عید کی حقیقی خوشی نصیب کرے۔عید، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، اسے کہتے ہیں، جو بار بار آئے اور جسے بار بار لانے کی دل میں خواہش پیدا ہو۔اور یہ عید اس لئے منائی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہم اس بات پر شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں ماہ رمضان کی خصوصی عبادات بجالانے کی توفیق عطا کی۔قیام لیل کی بھی اور دن کے روزوں کی بھی اور مستحقین کو کھانا کھلانے کی بھی کہ یہ بھی رمضان کی عبادت کا ایک بڑا ضروری حصہ ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر رمضان کو رحمت کا مہینہ ، مغفرت کا مہینہ اور عنق مِنَ النَّارِ کا مہینہ قرار دیا ہے۔یعنی یہ وہ مہینہ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ اگر اس کا بندہ ان سامانوں سے فائدہ اٹھائے اور ذرائع اور وسیلوں کو استعمال کرے، جو اس کے رب نے اس کے لئے مہیا کئے ہیں تو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کو وہ کچھ اس طرح جذب کرتا ہے کہ اس کی رحمت کا وارث بن جاتا ہے۔اس کے حصہ میں اپنے رب کی مغفرت آتی ہے اور اس کی گردن شیطان کی غلامی سے آزاد کر دی جاتی ہے اور اسے نار جہنم سے بچا لیا جاتا ہے۔آخری سپارے کی جو آیات میں نے اس وقت پڑھی ہیں، ان میں بھی یہی مضمون ہے کہ ہم نے انسان کے لئے ایسے سامان پیدا کئے ہیں کہ اگر وہ ان کو پہچانتا اور ہمارے بتائے ہوئے طریق پر عمل کرتا تو اس کے لئے ممکن تھا کہ وہ روحانی بلندیوں کو حاصل کرتا چلا جاتا۔لیکن ان تمام سامانوں کے باوجود اور اس ہدایت کے باوجود، جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ بنی نوع انسان پر نازل کی، اس نے اس طرف توجہ نہیں کی۔فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ اور ان روحانی بلندیوں تک اس نے پہنچنے کی کوشش نہیں کی۔جن روحانی بلندیوں تک پہنچنے کے لئے، اس کے لئے سامان مہیا کئے گئے تھے۔119