تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 710 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 710

اقتباس از خطاب فرمودہ 24 جنوری 1960ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم پھر دوسری دفعه کدال مارا اور روشنی نکلی تو مجھے مدائن کے سفید محلات دکھائے گئے اور مملکت فارس کی کنجیاں مجھے دی گئیں۔پھر تیسری دفعہ کدال مارا اور اس میں سے روشنی نمودار ہوئی تو مجھے صنعاء کے دروازے دکھائے گئے اور مملکت یمن کی کنجیاں میرے سپرد کی گئیں۔چنانچہ انہی پیشگوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ خلفائے راشدین کے زمانے میں قیصر و کسری کو زبر دست شکست دی اور شام اور ایران اور یمن کی سرزمین پر اسلام کا جھنڈ الہرانے لگا۔مگر افسوس کے بعد میں مسلمانوں نے تبلیغ اور آپ کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے میں کوتاہی سے کام لیا اور اسلام کی اشاعت رک گئی۔ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ آج دنیا بھر میں مسلمان، عیسائیوں ، ہندؤں اور بدھوں وغیرہ سے بہت زیادہ نہ ہوتے۔فطرت صحیحہ کے مطابق تعلیم کی اشاعت اگر زور سے کی جاتی تو یقینا وہ انسانوں کو کھینچ لیتی۔مگر افسوس کہ تبلیغ اسلام کو انہوں نے فراموش کر دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دنیا میں کمزور ہوتے چلے گئے۔اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اس غفلت کا ازالہ کریں اور ساری دنیا کو اسلام کی طرف کھینچ کر لے آئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر قریباً چودہ سو سال گزر چکے ہیں مگر ابھی تک اسلام دنیا میں اقلیت ہے۔عیسائیت کو 1959 سال گزر گئے مگر دنیا میں جتنی عیسائیت پھیلی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے کہنا پڑا ہے کہ عیسائیوں نے زیادہ وفاداری سے کام لیا ہے۔مسلمان اب تک بھی صرف عرب ، شام اور ایران میں ہی زیادہ ہیں۔ورنہ ہندوستان میں وہ کم ہیں، روس میں وہ کم ہیں، جاپان میں وہ کم ہیں، آسٹریلیا میں وہ کم ہیں، تھائی لینڈ میں وہ کم ہیں، جرمنی میں وہ کم ہیں ، ناروے اور سویڈن میں وہ کم ہیں ، فرانس میں وہ کم ہیں، سپین میں وہ کم ہیں ، امریکہ میں وہ کم ہیں، فلپائن میں وہ کم ہیں۔حالانکہ فلپائن میں اسلام بڑی دیر سے قائم ہو چکا ہے۔اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اس غفلت کا علاج کریں۔اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کو برتری بخشی ہے، ہم اسے دنیا میں بھی برتر کر کے چھوڑیں۔یہاں تک کہ تمام مذاہب یہ اقرار کر نے پر مجبور ہوں کہ اسلام کا مقابلہ ہم نہیں کر سکتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا نور ساری دنیا میں پھیل جائے۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس زمانے میں تبلیغ اسلام کی آگ لوگوں کے دلوں میں پھر بھڑکائی اور آپ نے اپنے انفاس قدسیہ سے ایک ایسی جماعت پیدا کردی، جو اسلام کو تمام دنیا میں پھیلانے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔مگر اس کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ابھی سارا ہندوستان باقی ہے، سارا انگلستان باقی ہے، سارا روس باقی ہے، سارا فرانس باقی ہے، سارا سیکنڈے نیویا باقی ہے، سارا جرمنی باقی ہے، سارا آسٹریلیا باقی ہے۔اس کو تا ہی کا علاج ہم 710