تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 709 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 709

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم الہی اقتباس از خطاب فرمودہ 24 جنوری 1960ء دنیا میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے ، ہماری جماعت کو قائم کیا گیا ہے وو خطاب فرمود 240 جنوری 1960 ء بر موقع جلسہ سالانہ میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو اس غرض کے لئے قائم کیا ہے کہ دنیا میں اسلام اور احمدیت کی اشاعت کی جائے۔اور دنیا کے چپہ چپہ پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم کی جائے۔یہی ہمارے تمام کاموں کا نقطہ مرکزی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کام کو ہمیشہ جاری رکھیں۔یہاں تک کہ دنیا کا کوئی ملک اور کوئی گوشہ ایسا نہ ہو، جہاں اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہ پہنچ جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 610ء میں دعوی نبوت فرمایا تھا اور 632ء میں آپ نے وفات پائی۔گویا آپ نے دعوی نبوت کے بعد صرف 23 سال کی عمر پائی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس قلیل مدت میں ہی آپ کے کام اور کلام میں عظیم الشان برکت ڈالی۔اور جو غیر معمولی کامیابی اس نے آپ کو بخشی ، وہ کسی اور نبی کو میسر نہیں آئی۔احادیث میں لکھا ہے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر جب مدینہ کی حفاظت کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودوانی شروی کی تو اچانک ایک پتھر ایسا آ گیا، جو کسی طرح ٹوٹنے میں نہیں آتا تھا۔صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی تو آپ خود وہاں تشریف لے گئے اور کدال پکڑ کر زور سے اسے پتھر پر مارا۔اس کے نتیجہ میں اس پتھر میں سے ایک روشنی نمودار ہوئی اور آپ نے فرمایا، اللہ اکبر اور صحابہ نے بھی بلند آواز سے آپ کے ساتھ نعرہ تکبیر بلند کیا۔پھر دوبارہ آپ نے کدال مارا اور پھر ایک روشنی نمودار ہوئی اور آپ نے فرمایا ، اللہ اکبر۔اس پر صحابہ نے پھر بڑے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔اس کے بعد آپ نے تیسری مرتبہ کدال مارا اور پھر اس پتھر میں سے روشنی نکلی اور آپ نے فرمایا ، اللہ اکبر اور ساتھ ہی صحابہ نے بھی نعرہ تکبیر بلند کیا اور پھر ریزہ ریزہ ہو گیا۔جب پتھر ٹوٹ چکا تھا تو صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! آپ نے تین دفعہ اللہ اکبر کیوں کہا؟ آپ نے فرمایا ، جب پہلی مرتبہ میں نے کدال مارا اور پتھر میں سے روشنی نکلی تو مجھے قیصر روم کے محلات دکھائے گئے اور ان کی کنجیاں میرے سپرد کی گئیں۔709