تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 704 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 704

اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1958ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم نے ایسا کیا تو ہماری تبلیغ کے رستہ میں بڑی مشکلات پیش آجائیں گی۔چنانچہ سوچ کر ہم نے یہ تجویز نکالی کہ مسجد کا افتتاح تو احمدی مبلغ کرے مگر افتتاحی تقریب کا صدر اس سکھ کو بنایا جائے۔تاکہ وہ اسلام کے اور زیادہ قریب آجائے اور اس کا دل بھی خوش ہو جائے کہ اس کی قدر کی گئی ہے۔اس جلسہ کے موقع پر ماریشس کی جماعت کا ایک نمائندہ بھی آیا ہوا ہے، جس نے ابھی میری اجازت سے اپنی جماعت کی طرف سے ایڈریس پڑھا ہے۔یہ جماعت میری خلافت کے ابتداء میں قائم ہوئی تھی۔اب وہاں کئی فتنے پیدا ہور ہے ہیں اور ماریشس کے احمدی ان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔مگر چونکہ حکومت بھی مخالف ہے، اس لیے کچھ دقتیں پیدا ہورہی ہیں۔( بعد میں وہاں ایک گورنر کی چٹھی دفتر تبشیر میں آئی، جس میں خود اس نے ایسی تدابیر بتائی ہیں، جن سے ان کی مشکلات بھی دور ہو جائیں اور قانون کے اعتراضات بھی نہ رہیں۔ماریشس سے پہلے سیلون میں جماعت قائم ہوئی تھی۔اور سیلون کے مبلغ یعنی حافظ صوفی غلام محمد صاحب کو ہی میں نے ماریشس بھجوایا تھا۔سیلون میں بھی بعض فتنے پیدا ہورہے ہیں اور تامل بولنے والے ہندوستانی بڑی مخالفت کر رہے ہیں، جو وہاں کثرت سے ہیں۔گو ملک کے اصلی باشندوں کی زبان سنہا لیز ہے۔مجھے ایک خواب میں بتایا گیا تھا کہ سنہالیز زبان کی طرف توجہ کرو۔چنانچہ اس زبان میں ہمارے مبلغ نے وہاں لٹریچر شائع کیا۔پہلے یہ خیال کیا گیا تھا کہ زبان کا نام سنگھالی ہے۔مگر بعد میں پتہ لگا کہ اس کا نام جیسا کہ خواب میں بتایا گیا تھا سنگھالی نہیں، سنہا لیز ہے۔وہاں کے اصلی باشندے بھی یہی زبان بولتے ہیں اور چونکہ ہماری پالیسی یہ ہے کہ اصل باشندوں کی تربیت کی جائے ، اس لیے میں نے مبلغ کو تاکید کی تھی کہ سنہا لیز زبان میں لٹریچر شائع کیا جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اصل باشندے تو ہماری تائید میں ہو گئے مگر تامل بولنے ہندوستانی، جو اکثریت میں ہیں، ہمارے خلاف ہو گئے۔اب پیغام آیا ہے کہ دوست دعا کریں اللہ تعالیٰ یہاں کی مشکلات دور کرے اور جماعت کو مسجد بنانے کی توفیق دے۔۔اس طرح جماعت کو تحریک جدید کی طرف بھی خاص توجہ کرنی چاہیے۔اگر اس کا چندہ بڑھ جائے تو ہمیں دنیا کے ہر ملک میں مسجد بنانے کی توفیق مل جائے گی۔اور اس طرح ہم اسلام کا جھنڈا دنیا کے ہر کو نہ میں گاڑ سکیں گے۔غیر ممالک میں اشاعت اسلام کا کام تحریک جدید کے سپرد ہے اور یہ کام اتنا وسیع ہے کہ جماعت کی خاص توجہ کے بغیر اسے کامیابی سے چلانا مشکل ہے۔اسلام کو دنیا میں پھر سے غالب کرنے کا کام جماعت احمدیہ کے سپرد ہے۔اس لئے اسے اس سلسلہ میں ہمیشہ مالی اور جانی قربانیوں میں پورے جوش سے حصہ لینا چاہیے۔تا کہ ہم اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو ہوسکیں۔( مطبوعه روزنامه الفضل 103 اپریل 1959ء) 704