تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 703
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1958ء گیا ہے کہ وہ یہاں پہنچ گئے ہیں اور جلسہ میں موجود ہیں۔لطیف صاحب نے ان کی تعریف کی ہے اور لکھائو ہے کہ تبلیغ میں یہ بہت اچھے ہیں۔مگر جرمن لوگوں کی درخواست آئی ہے کہ ہمیں پاکستانی مبلغ بھیجیں۔چنانچہ لطیف صاحب کی مدد کے لئے ہم ایک نیا مبلغ بھجوار ہے ہیں۔سیکنڈے نیویا ، جو روس سے ملتا ہوا ، یورپین علاقہ ہے۔جرمنی ، ہالینڈ اور بیلجئم کے شمالی ، شمال مشرق میں واقع ہے۔اور انگلستان کے شمال مشرق میں اس علاقہ کی ایک حکومت فن لینڈ کہلاتی ہے۔کئی لاکھ ترک اس علاقہ میں سینکڑوں سال سے بس رہا ہے۔یہ لوگ گو احمدی نہیں ہوئے مگر انہوں نے احمدی مبلغ کو بلا کر تقریریں کرائی ہیں۔دوسری حکومت اس علاقہ کی سویڈن کہلاتی ہے۔چونکہ یہ لوگ مالدار ہیں اور متعصب عیسائی ہیں ، اس لئے وہاں کی رہائش بڑی مہنگی ہے۔ہمارا ارادہ تھا کہ سویڈن میں مسجد بنائیں۔لیکن ایک جرمن نو مسلم نے لکھا ہے کہ میں نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک جگہ تجویز کی ہے، بہتر ہوگا کہ وہاں مسجد بنائی جائے۔اس کے متعلق ہم نے وہاں کے مبلغ کمال یوسف ساحب کو ، جو میرے سالے کے لڑکے ہیں، ہدایت کر دی ہے کہ وہ اسے دیکھ کر رپورٹ کریں۔اگر وہ مناسب جگہ ہو تو اسے خرید لیا جائے اور مغربی افریقہ کی جماعت کو مسجد کی تعمیر کے لئے تحریک کی جائے۔چونکہ ہمارے ملک کی اپیھنچ کی حالت اچھی نہیں اور حکومت پونڈ باہر نہیں جانے دیتی ، اس لئے مسجدوں کی تعمیر میں دقت پیش آسکتی تھی۔لیکن اللہ تعالٰی نے ہم پر یہ فضل کیا کہ اس نے ہمیں مشرقی اور مغربی افریقہ میں ایسی جماعتیں دے دی ہیں، جن میں سے بعض بہت مالدار ہیں۔مغربی افریقہ میں بعض چیف ایسے ہیں، جن کی زمینوں میں سے ہیرے کی کانیں نکلی ہیں۔اور مشرقی افریقہ میں احمدیت کی مدد کی تحریک اللہ تعالیٰ نے بعض سکھوں کے دلوں میں پیدا کر دی ہے۔چنانچہ یوگنڈا کے علاقہ میں ایک بڑا شہر ججہ ہے۔وہاں ایک مسجد کی تعمیر کے لیے ایک سکھ تاجر نے بہت سا سامان دیا ہے اور ساتھ ہی اس نے وعدہ کیا ہے کہ یوگنڈا میں جتنی مساجد بھی بنائی جائیں گی، میں ان کے لئے لو ہا لکڑی اور سیمنٹ مہیا کرنے میں پوری مدددوں گا۔یہ نو جوان سکھ گل قوم میں سے ہے، جو قادیان کے گرد بستی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ وہ بیرونی ملکوں میں مساجد کی تعمیر کے سلسلہ میں غیر مسلموں کے دلوں میں بھی امداد کی تحریک کر رہا ہے۔گو وہ جماعتیں امیر ہیں لیکن اتنی امیر نہیں کہ سارے علاقوں میں مساجد تعمیر کرسکیں۔ایک نوجوان مشرقی افریقہ سے آیا تھا۔اس نے کہا، اس سکھ نوجوان نے اتنی مدد کی ہے کہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ مسجد کا افتتاح اس سے کروایا جائے۔میں نے اس کے متعلق شیخ مبارک احمد صاحب سے جو وہاں کے رئیس التبلیغ ہیں، پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہاں غیر مسلموں کے متعلق اتنا تعصب ہے کہ اگر ہم 703