تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 702 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 702

اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1958ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد سوم تک کچھ سفید آدمی بھی احمدیت میں داخل ہوئے ہیں، جن کی تعداد تیرہ ہے۔ان میں سے ایک کینیڈا کا ریٹائرڈ فوجی افسر ہے۔کینیڈا، امریکہ کا وہ حصہ ہے، جو انگریزوں سے وابستہ ہے۔ایک عورت ، جو سفید فام لوگوں میں سے احمدی ہوئی ہے اور نہایت مخلص اور تبلیغ کا جنون رکھتی ہے، اس نے ہمارے مبلغ شکر الہی صاحب سے شادی کر لی ہے۔اس کے والدین ابھی احمدی نہیں ہوئے۔دوست دعا کریں کہ وہ بھی احمدی ہو جائیں اور اس کے خاندان میں امن قائم ہو جائے۔ایک جہازوں کا کمانڈر بھی احمدی ہوا ہے۔اس طرح آہستہ آہستہ سفید فام لوگوں میں بھی احمدیت پھیلنے لگ گئی ہے۔ایک حبشی نو جوان وہاں کی ایک اعلیٰ یو نیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہا ہے، امید ہے کہ جب وہ تعلیم سے فارغ ہو گا تو اپنے ملک میں تبلیغ کا بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوگا۔انگلستان میں گو سب سے پہلے تبلیغ شروع ہوئی تھی مگر وہاں بہت کم لوگ احمدی ہوئے ہیں۔اب موجودہ امام مسجد لنڈن مولود احمد خان صاحب کے ذریعہ سے تعلیم یافتہ طبقہ میں تبلیغ شروع ہو گئی ہے اور چند بیعتیں بھی آئی ہیں۔اب تازہ اطلاع یہ آئی ہے کہ ایک نو جوان، جو پچھلے سفر میں مجھے بھی ملا تھا، ایک پاکستانی احمدی مرتد نے اسے ورغلانے کی کوشش کی ، اس نے مرکز انگلستان میں خط لکھا کہ فلاں پاکستانی نوجوان نے مجھے ورغلانے کی کوشش کی تھی ، اگر میں نے سوچ سمجھ کر احمدیت قبول نہ کی ہوتی تو یہ شخص مجھے ورغلانے میں ضرور کامیاب ہو جاتا لیکن میں اس کی تمام باتوں کو لغو مجھتا ہوں۔اب ایک نیا مبلغ بھی انگلستان بھیج دیا گیا ہے، جو امید ہے ، پہنچ چکا ہوگا۔میر انشاء ہے کہ انگلستان میں دو اور مقامات پر جن کے جنوباً اور شمالاً ہر جگہ اسلام کا اثر ہو، مساجد تعمیر کی جائیں۔میں نے اس کے متعلق مولود احمد صاحب کو ہدایت بھجوادی ہے۔مگر مولود صاحب جہاں تبلیغ میں نہایت ہی اعلیٰ ثابت ہوئے ہیں، وہاں مساجد کی تعمیر کے سلسلہ میں ان کی ذہانت بالکل ناکام رہی ہے۔چھوٹے چھوٹے کاموں پر بھی وہ بہت دیر لگا دیتے ہیں۔ان کے مقابلہ میں جرمنی کے مبلغ چوہدری عبدالطیف صاحب نہایت کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔انہوں نے نہ صرف ہمبرگ میں مسجد بنائی ہے بلکہ فرنیکفورٹ میں بھی ، جو جرمنی کا بڑا شہر ہے ،مسجد کے لئے زمین خرید لی ہے۔اور ان کا جو تازہ خط آیا ہے، اس میں لکھا ہے کہ میں یہاں سے مسجد بنوانے کے لئے فرنیکفورٹ جارہا ہوں۔سوئٹزر لینڈ میں شیخ ناصر احمد صاحب کام کر رہے ہیں۔انتظامی لحاظ سے وہ بھی مولود صاحب کی طرح بہت کمزور ہیں لیکن تبلیغی لحاظ سے بڑے اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ان کے ذریعہ سوئٹزر لینڈ کے ساتھ ملتے ہوئے ، جزیرہ اور آسٹرین علاقہ میں اسلام کی تبلیغ ہورہی ہے اور کئی لوگ اسلامی تعلیم سے دلچسپی لے رہے ہیں۔مسٹر کنزے نے ، جو جرمنی کے سب سے پہلے مسلمان ہیں، لکھا ہے کہ وہ اس سال جلسہ سالانہ پر آنا چاہتے ہیں۔مجھے بتایا 702