تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 656 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 656

خطبہ جمعہ فرموده 19 اپریل 1957ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم لکھتی ہے کہ میں دیر سے اسلام لائی ہوئی تھی لیکن اس کے اظہار کا مجھے موقع نہیں ملا تھا۔اب میں نے لوگوں کو بتا دیا ہے کہ میں مسلمان ہوگئی ہوں اور میں نے اسلام کی تبلیغ بھی شروع کر دی ہے۔اسی طرح و یا نا سے ایک تعلیم یافتہ عورت کا خط آیا ہے کہ وہ اسلام کی تحقیق کر رہی ہے، وہ عورت غالبا ڈاکٹر ہے۔اسی طرح اور مختلف ممالک سے خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت اور اسلام کی ترقی کی خبریں آرہی ہیں۔پچھلے ہفتہ کوئی آٹھ ، دس بیعتیں امریکہ سے بھی آئی ہیں اور لکھا تھا کہ ایک نئی جگہ سے بھی بعض بیعتیں آئی ہیں، جہاں حال ہی میں جماعت قائم ہوئی ہے۔لیکن ہم ابھی تک امریکہ سے خوش نہیں۔کیونکہ گو وہاں نئی جماعتیں قائم ہو رہی ہیں، لیکن نئے مبلغ نہیں جارہے۔اور وہاں کا رئیس التبلیغ یہ شکوہ کرتا رہتا ہے کہ ہمیں کوئی چندہ نہیں آتا۔حالانکہ ان سے پہلے اس چندے سے دگنا چندہ آتا تھا ، جواب آتا ہے۔یہ نئے رئیس التبلیغ 1944ء میں گئے تھے اور جب سے یہ گئے ہیں، کچھ ایسی نحوست پڑی ہے کہ وہاں کے مشن کے چندے کم ہو گئے ہیں اور احمدیوں کی تعداد بھی کم ہوگئی ہے۔جب مفتی محمد صادق صاحب مرحوم امریکہ گئے تھے تو اس وقت سات ہزار سے زیادہ احمدی ہوئے تھے۔پھر ان کے بعد ماسٹر محمد دین صاحب کے زمانہ کے بعض مخلص احمدی اب بھی شکاگو میں موجود ہیں۔اب کچھ دنوں سے پھر کچھ حبشی نو مسلموں کے خطوط آنے شروع ہوئے ہیں کہ ان کے علاقہ میں احمدیت کی ترقی ہورہی ہے۔لیکن میں نے یہ تجویز کیا ہے کہ امریکہ اتنا بڑا ملک ہے کہ کوئی انچارج مبلغ ایک جگہ بیٹھ کر تمام مشنوں پر کنٹرول نہیں کر سکتا۔اس لئے اس ملک کے سب مشنوں کو الگ الگ کر دیا جائے اور رئیس التبلیغ کا جھگڑا ختم کر دیا جائے۔رئیس التبلیغ صاحب اپنے علاقہ میں تبلیغ کریں اور بتائیں کہ ان کی تبلیغ کی وجہ سے کتنے نئے احمدی ہوئے ہیں اور کتنا چندہ آیا ہے؟ اس سے پتہ لگ جائے گا کہ ان کا مشن چلنے لگ گیا ہے یا نہیں؟ اس وقت کام دوسرے مبلغ کرتے ہیں اور ان کے مشنوں کی آمد رئیس التبلیغ صاحب پر خرچ ہو جاتی ہے۔پس میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہر مشن اپنے چندے سے اپنا کام چلائے۔وہ اپنا چندہ اپنے علاقہ سے باہر نہیں بھیجے گا اور براہ راست ہم سے تعلق رکھے گا، ہم اس کی نگرانی کریں گے۔تا ہمیں ہرمشن کے متعلق پتہ لگتا ہے کہ کہ وہ کیا کام کر رہا ہے؟ اور براہ راست مرکز سے تعلق کی وجہ سے مشنوں کو بھی احساس ہو کہ ان کے کام کی نگرانی ہو رہی ہے۔آخر امریکہ ہندوستان سے تین گنا وسیع ملک ہے اور اتنے بڑے ملک میں ایک جگہ بیٹھ کر سارے ملک پر نگرانی نہیں ہو سکتی۔اور اگر ان کے لئے سارے ملک پر نگرانی کرنا مشکل ہے اور ہمارے لئے بھی نگرانی کرنا مشکل ہے تو پھر ہم خود کیوں نگرانی نہ کریں؟ 656