تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 657
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 19 اپریل 1957ء کیوں مبلغین میں سے ایک کا نام رئیس التبلیغ رکھ کر دوسرے کے اندر رقابت کا جذبہ پیدا کریں۔وہ اپنی جگہ کا انچارج مشنری رہے۔ہاں اگر ہمیں موجودہ انچارج مشنری یا کسی دوسرے مشنری کو اس کے علاقہ سے باہر بھیجنا پڑے تو وہ چلا جائے ، ورنہ ہر شخص اپنی اپنی جگہ کام کرے۔بہر حال مختصر میں نے بتایا ہے کہ بیرونی ممالک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کی ترقی کے آثار پیدا ہور ہے ہیں۔اور اب کیپ ٹاؤن میں بھی ایک عورت نئی احمدی ہوئی ہے۔ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وہاں یہ پہلی عورت احمد ی ہوئی ہے۔کیونکہ اس سے پہلے بھی وہاں دو بھائی احمدی ہوئے تھے۔ان میں سے ایک تو چند سال ہوئے فوت ہو گیا ہے اور دوسرا ابھی زندہ ہے اور مجھے سفر یورپ میں لنڈن میں ملا تھا۔ان میں سے ایک کا نام یوسف سلیمان تھا اور دوسرے کا نام عمر سلیمان ہے۔یوسف سلیمان، جو پرانے احمدی تھے، وہ فوت ہو گئے ہیں۔عمر سلیمان ابھی زندہ ہیں۔جب میں انگلستان گیا تو مجھے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے پاس سے خرچ دے کر اپنے مرحوم بھائی کی یادگار میں ہماری لنڈن مسجد کی ایک دیوار بنوائی ہے اور اس پر جلی حروف میں یہ لکھوا دیا ہوا ہے کہ یوسف سلیمان کی یاد میں یہ کتبہ لگایا جاتا ہے۔یوسف سلیمان بہت مخلص تھے۔عمر سلیمان استے مخلص نہیں تھے لیکن اب وہ زیادہ تعلق رکھنے لگ گئے ہیں اور مخلص احمدی ہیں۔غرض جیسا کہ میں نے بتایا ہے، یہ دو بھائی کیپ ٹاؤن کے پرانے احمدی تھے۔ان کے والد احمدی نہیں تھے، مگر یہ دونوں انگلستان میں احمدی ہوئے تھے۔اب ایک انگریز عورت احمدی ہوئی ہے۔اسے گویا تیسرا احمدی کہنا چاہئے ، لیکن چونکہ اب وہاں کوئی اور احمدی نہیں ہے، اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ پہلی احمدی عورت ہے۔یوسف سلیمان صاحب 1946ء میں قادیان میں میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ میں کلکتہ سے ہو کر ساؤتھ افریقہ جاؤں گا۔وہاں ہماری جائیداد ہمارے غیر احمدی رشتہ داروں کے قبضہ میں ہے، اس کی بھی نگرانی کروں گا اور تبلیغ بھی کروں گا۔مگر وہ جاتے ہی فوت ہو گئے اور تبلیغ نہ کر سکے۔یہ ساؤتھ افریقہ کے اس خاندان سے تھے، جس نے سب سے پہلے وہاں آزادی کی تحریک چلائی تھی۔عمر سلیمان نے مجھے بتایا تھا کہ جب گاندھی جی ساؤتھ افریقہ گئے اور پہلی دفعہ انہیں سیاسی کام کرنا پڑا تو وہ میرے باپ کے پاس ہی ٹھہرے تھے اور انہی سے مل کر انہوں نے ایک انجمن بنائی تھی۔اس کے بعد وہ ہندوستان آگئے اور یہاں آکر وہ ایک بڑے لیڈر بن گئے۔بہر حال جیسا کہ میں نے بتایا ہے، وہاں اب ایک انگریز عورت احمدی ہوئی ہے اور اس نے لکھا ہے کہ میں نے تبلیغ شروع کر دی ہے۔خدا کرے کہ اس کے ذریعہ وہاں ایک بڑی جماعت پیدا ہو جائے۔وہاں ہندوستانیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اگر وہ 657