تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 627 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 627

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ پیر کہلانے کی عادت ہوگئی ہے۔حالانکہ انہی کے سلوک اور خاطر مدارا تو فرمود : 126 اکتوبر 1956 وجہ سے انہیں استاد اور پیر کہلانے کی عادت پیدا ہو گئی تھی۔اسی طرح اس علاقہ میں پہلے طبیب نہیں تھے۔ہندوستان کے راول وہاں جاتے اور پانچ ، پانچ ہزار روپیہ ماہوار کماتے تھے۔لیکن اب یہ حالت ہے کہ وہاں ماہر طبیب بھی چلا جائے تو وہ اسے فقیر اور سپیرا سمجھتے ہیں اور اس سے نفرت کرتے ہیں۔غرض زمانہ کے حالات بدلنے کی وجہ سے اشاعت اسلام کا طریق بھی بدل گیا ہے۔اب تامرون بالمعروف وتنهون عن المنكر كا كام وہی شخص کر سکتا ہے، جس کو جماعت کی طرف سے خرچ ملتا ہو۔کا ہی کرسکتی جماعت سے ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے جبکہ وہ جماعت منظم ہو۔کیونکہ جماعت کا ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ اپنے کسی بیٹے کو اس کام کے لئے بھیجے اور اس کا سارا خرج خود برداشت کرے۔ہماری ساری جماعت جو دس لاکھ کے قریب ہے، اس میں سے اگر کوئی ایسی مثال ملتی ہے تو وہ صرف میری ہے۔میں نے اپنے ایک بیٹے کو انڈو نیشیا تبلیغ کے لئے بھیجا تھا اور جتنی دیر وہ وہاں رہا اس کا سب خرچ میں ہی بھیجوا تارہا۔اب بھی میرا ارادہ ہے کہ اگر آئندہ کسی ملک میں اپنا بیٹا اشاعت اسلام کے لئے بھیجوں تو اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کے سارے اخراجات بھی میں خود ہی ادا کروں۔لیکن ہر کوئی ایسا نہیں کر سکتا۔کیونکہ دوسرے ممالک میں رہائش اور خور دو نوش کے اخراجات بہت زیادہ ہیں اور پاکستانی چونکہ غریب ہیں، اس لئے وہ اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتے۔چار، پانچ سو روپیہ ماہوار تنخواہ پانے والا شخص بھی اگر چاہے تو پچاس روپیہ ماہوار تک ہی دے سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔لیکن دوسرے ممالک میں اخراجات دو، اڑھائی سو روپیہ ماہوار سے کم نہیں ہوتے اور اتنی رقم وہ اپنی تنخواہ سے نہیں بچا سکتا۔پھر جتنی زیادہ کسی کی تنخواہ ہوگی ، اتنے ہی اس کے اخراجات بھی زیادہ ہوں گے۔ای۔اے۔سی اور دوسرے بڑے عہدیداروں کے اخراجات بھی بہت بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔بلکہ ہمارے ہاں تو یہ کیفیت ہے کہ عام طور پر جب بیٹا بڑا ہو جائے تو خیال کیا جاتا ہے کہ اب وہ کمائے اور ہماری امداد کرے۔غرض پرانے زمانہ اور موجودہ زمانہ میں بہت فرق ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیر کو تشریف لے جارہے تھے، نواب محمد علی خاں صاحب مرحوم بھی ساتھ تھے۔آپ نے بڑے تعجب سے فرمایا، نواب صاحب یہ کتنا اندھیر ہے کہ پہلے جو چوڑھا ہمارے ہاں کام کرتا تھا، اسے ہم چار آنہ ماہوار دیا کرتے تھے اور وہ خود اور اس کا سارا ٹبر ہماری خدمت کیا کرتا تھا۔لیکن اب اس کی بیوی کو ہم دوروپے ماہوار دیتے ہیں اور وہ پھر بھی کام سے جی چراتی ہے۔اس پر نواب صاحب کہنے لگے ، حضور ! آپ تو دور و پیہ دیتے ہیں، ہم چودہ روپے ماہوار دیتے ہیں اور پھر بھی چوڑھا راضی نہیں۔627