تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 626
خطبہ جمعہ فرمود و 26 اکتوبر 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم جماعت کے افراد دنیا کے کناروں پر جائیں اور ساری دنیا کے لوگوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں۔لیکن اگر کوئی تنظیم نہ ہو اور یہ نہ ہو کہ اس تنظیم کے ماتحت کوئی شخص امریکہ میں بیٹھا ہوا تبلیغ اسلام کا کام کر رہا ہو، کوئی ملایا میں بیٹھا ہوا یہ کام کر رہا ہو، کوئی تھائی لینڈ میں بیٹھا ہوا یہ کام کر رہا ہو، کوئی بور نیو میں بیٹھا ہوا یہ کام کر رہا ہوں، کوئی انڈونیشیا میں بیٹھا ہوا یہ کام کر رہا ہو، کوئی ہندوستان میں بیٹھا ہوا یہ کام کر رہا ہو، کوئی فلپائن میں بیٹھا ہوا یہ کام کر رہا ہو، کوئی جاپان میں بیٹھا ہوا یہ کام کر رہا ہو، کوئی چین میں بیٹھا ہوا یہ کام کر رہا ہو، کوئی یورپ کے مختلف ممالک یعنی انگلینڈ سکینڈے نیویا، ہالینڈ پیجم ، پین ، فرانس، سوئٹزر لینڈ، جرمنی ، آسٹریا، پولینڈ، ہنگری اور روس میں بیٹھا ہوا یہ کام کر رہا ہو تو اس وقت تک اس آیت پر پوری طرح عمل نہیں ہو سکتا۔پس اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اے مسلمانو ! تم سب سے بہتر قوم ہو، جسے ساری دنیا کے لئے نکالا گیا ہے۔مگر پھر یہ بھی بتایا کہ تمہیں کس کام کے لئے نکالا گیا ہے۔وہ کام یہ ہے کہ تم ساری دنیا کو نیک کاموں کی تعلیم دیتے ہو اور ساری دنیا کو برائی سے روکتے ہو۔اور ساری دنیا کو نیکی کی تعلیم دینا اور ساری دنیا کو برائی سے روکنا بھی ممکن ہوسکتا ہے، جب جماعت میں تنظیم ہو اور اس تنظیم کے ماتحت وہ ساری دنیا میں اپنے مبلغ بھیجتی رہے۔پرانے زمانہ میں اسلام میں یہ طریق تھا کہ لوگ آپ ہی آپ دوسرے ممالک میں چلے جاتے تھے اور اشاعت اسلام کا کام کرتے تھے۔اس زمانہ میں بادبانی جہاز ہوتے تھے اور لوگ معمولی کرایہ خرچ کر کے فلپائن، انڈونیشیا، ملایا اور ہندوستان پہنچ جاتے تھے۔لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے اور سفر پر بڑے بھاری اخراجات ہوتے ہیں۔پھر پہلے زمانہ میں لوگ اپنے مکانات کو آباد کرنے کے لئے بھی آدمی ڈھونڈتے پھرتے تھے کہ کوئی مناسب آدمی مل جائے تو اسے اپنا ایک مکان، جو مثلاً دو کمروں پر مشتمل ہو دے دیں تا کہ وہ اس کی حفاظت کرے۔لیکن اب یہ حالت ہے کہ بعض ممالک میں ایک غسل خانہ بھی کرایہ پر لیا جائے تو اس کا ڈیڑھ ، دوسوروپیہ ماہوار کرایہ دینا پڑتا ہے۔اس لئے اب ہر ایک شخص میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اس حکم پر عمل کر سکے۔پرانے زمانہ میں ہر آدمی اس قابل تھا کہ وہ انڈونیشیا، ملایا، چین یا جاپان چلا جائے۔کیونکہ سفر پر اخراجات بہت کم ہوتے تھے اور پھر چونکہ سفر بھی کم ہوتا تھا، اس لئے جب سیاح آتے تو لوگ شوق سے انہیں اپنے گھروں میں ٹھہراتے تھے اور ان کی خاطر مدارات کرتے تھے۔انڈونیشیا میں کسی زمانہ میں عملاً عربوں کی حکومت تھی۔کیونکہ لوگ انہیں شوق سے اپنے گھروں میں لے جاتے اور انہیں استاد اور پیر سمجھتے اور ان کی خاطر مدارات کرتے۔لیکن اب انہیں عربوں سے نفرت ہوگئی ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں استاد اور 626