تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 614

خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جون 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کے نشانات ہمیشہ دکھاتا چلا آیا ہے اور دکھاتا چلا جائے گا۔اور جب وہ دکھاتا ہے تو بڑے بڑے سخت دل لوگوں کو بھی اقرار کر نا پڑ تا ہے کہ ہمارا خدا، ایک زندہ خدا ہے۔بیبیوں نہیں سینکڑوں غیر احمدی ایسے ہیں، جو فسادات کے بعد مجھے ملے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں آپ کا وہ فقرہ اب تک یاد ہے کہ تم مت گھبراؤ، میں دیکھ رہا ہوں کہ خدا ہماری مدد کے لئے دوڑا چلا آ رہا ہے۔جب مارشل لاء نافذ ہوا اور فوجیں لاہور میں داخل ہو گئیں تو ہم نے سمجھ لیا کہ آپ کی وہ پیشگوئی پوری ہوگئی ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کو لفظاً لفظاً سچا ثابت کر دیا ہے۔غرض ہمارا خدا، ایک زندہ خدا ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔وہ آدم کے زمانہ میں بھی زندہ تھا، وہ نوح کے زمانہ میں بھی زندہ تھا، وہ ابراہیم کے زمانہ میں بھی زندہ تھا، وہ موسیٰ کے زمانہ میں بھی زندہ تھا، وہ عیسی کے زمانہ میں بھی زندہ تھا، وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی زندہ تھا اور وہ آج بھی زندہ ہے۔اور اگر دنیا اور ہزار سال تک قائم رہے گی تو ہزار سال تک اور اگر ایک کروڑ سال تک قائم رہے گی تو کروڑ سال تک اور اگر ایک ارب سال تک قائم رہے گی تو ایک ارب سال تک وہ اپنی زندگی کے نشانات دکھاتا چلا جائے گا۔کیونکہ وہ جی و قیوم خدا ہے اور وہ لاتاخذه سنة ولا نوم کا مصداق ہے۔اس پر جب اونگھ اور نیند بھی نہیں آتی تو اس کے زندہ نشانات کا سلسلہ کس طرح ختم ہو سکتا ہے؟ جب ایسے خدا سے انسان اپنا تعلق پیدا کر لیتا ہے تو اس کی ساری ضرورتوں کا وہ آپ کفیل ہو جاتا ہے اور ہمیشہ اس کی تائید نا لیتا کے لئے اپنے غیر معمولی نشانات ظاہر کرتا ہے۔ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت خلیفة المسیح اول رضی اللہ عنہ کے پاس اکثر لوگ اپنی امانتیں رکھواتے تھے اور آپ اس میں سے ضرورت پر خرچ کرتے رہتے تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس طرح رزق دیتا رہتا ہے۔بعض دفعہ ہم نے دیکھا کہ امانت رکھوانے والا آپ کے پاس آتا اور کہتا کہ مجھے روپیہ کی ضرورت ہے، میری امانت مجھے واپس دے دی جائے۔آپ کی طبیعت بڑی سادہ تھی اور معمولی سے معمولی کاغذ کو بھی آپ ضائع کرنا پسند نہیں فرماتے تھے۔جب کسی نے مطالبہ کرنا تو آپ نے ردی سا کاغذ اٹھانا اور اسی پر اپنی بیوی کو لکھ دینا کہ امانت میں سے دوسور و پی بھجوا دیا جائے۔اندر سے بعض دفعہ جواب آتا کہ روپیہ تو خرچ ہو چکا ہے یا اتنے روپے ہیں اور اتنے روپوں کی کمی ہے۔آپ نے اسے فرمانا کہ ذرا ٹھہرو، ابھی روپیہ آ جاتا ہے۔اتنے میں ہم نے دیکھنا کہ کوئی شخص دھوتی باندھے ہوئے ، جونا گڑھ یا بمینی کا رہنے والا، چلا آرہا ہے اور اس نے آکر اتنا ہی روپیہ آپ کو پیش کر دیا ہے۔ایک دن لطیفہ ہوا۔کسی نے اپنا روپیہ مانگا، اس دن آپ کے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا۔مگر اسی وقت ایک شخص علاج کے لئے آگیا اور اس نے ایک پڑیہ میں کچھ رقم لپیٹ کر آپ کے سامنے رکھ دی۔614