تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 615

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جون 1956ء حافظ روشن علی صاحب کو علم تھا کہ روپیہ مانگنے والا کتنا روپیہ مانگتا ہے؟ آپ نے حافظ صاحب سے فرمایا کہ دیکھو، اس میں کتنی رقم ہے؟ انہوں نے گنا تو کہنے لگے، بس اتنی ہی رقم ہے، جتنی رقم کی آپ کو ضرورت تھی۔آپ نے فرمایا، یہ اس قارض کو دے دو۔اسی طرح آپ ایک پرانے بزرگ کا قصہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ایک قرض خواہ ان کے پاس آ گیا اور اس نے کہا کہ آپ نے میری اتنی رقم دینی ہے اور اس پر اتنا عرصہ گزر چکا ہے، اب آپ میرا رو پیادا کریں؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو ہے نہیں، جب آئے گا تمہیں دے دوں گا۔وہ کہنے لگا تم بڑے بزرگ بنے پھرتے ہو اور قرض لے کر ادا نہیں کرتے ، یہ کہاں کی شرافت ہے؟ اتنے میں وہاں ایک حلوا بیچنے والالڑ کا آ گیا۔انہوں نے اسے کہا کہ آٹھ آنے کا حلوادے دو۔لڑکے نے حلوادے دیا اور انہوں نے وہ حلوا اس قارض کو کھلا دیا۔لڑکا کہنے لگا کہ میرے پیسے میرے حوالے کیجئے۔وہ کہنے لگے کہ تم آٹھ آنے مانگتے ہو اور میرے پاس تو دو آنے بھی نہیں۔وہ لڑ کا شور مچانے لگ گیا۔یہ دیکھ کر وہ قرض خواہ کہنے لگا کہ یہ کیسی بے حیائی ہے کہ میری رقم تو ماری ہی تھی، اس غریب کی اٹھنی بھی ہضم کرلی ہے۔غرض وہ دونوں شور مچاتے رہے اور وہ بزرگ اطمینان سے اپنی جگہ بیٹھے رہے۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے اپنی جیب میں سے ایک پڑیہ نکال کر انہیں پیش کی اور کہا کہ یہ فلاں امیر نے آپ کو نذرانہ بھیجا ہے۔انہوں نے اسے کھولا تو اس میں روپے تو اتنے ہی تھے، جتنے قرض خواہ مانگتا تھا مگر اس میں اٹھنی نہیں تھی۔کہنے لگے ، یہ میری پڑیہ نہیں ، اسے واپس لے جاؤ۔یہ سنتے ہی اس کا رنگ فق ہو گیا اور اس نے جھٹ اپنی جیب سے ایک دوسری پڑیہ نکالی اور کہنے لگا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے، آپ کی پڑیہ یہ ہے۔انہوں نے اسے کھولا تو اس میں اتنے ہی روپے تھے، جو قارض مانگ رہا تھا اور ایک اٹھنی بھی تھی۔انہوں نے دونوں کو بلایا اور وہ روپے انہیں دے دیئے۔غرض زندہ خدا اپنے بندوں کی تائید میں ہمیشہ اپنے نشانات دکھاتا ہے۔انسان بعض دفعہ اپنی بیماری یا کمزوری ایمان کی وجہ سے گھبرا جاتا ہے۔لیکن جس کے ساتھ خدا ہوتا ہے، وہ اس کی غیب سے مدد کرتا ہے۔میرے لئے یہ سخت صدمہ اور رنج کی بات تھی کہ تحریک جدید کے بیرونی مشنوں کے لئے ہمارے پاس کوئی خرچ نہیں رہا۔چنانچہ کچھ دن میں خطر ناک طور پر بیمار رہا بلکہ ابھی تک طبیعت پوری طرح سنبھلی نہیں۔لیکن نشان الہی دیکھو کہ ادھر مجھے فکر پیدا ہوا اور ادھر اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا میں لوگوں کے دلوں میں تحریک پیدا کرنی شروع کر دی۔جن میں احمدی بھی تھے اور غیر احمدی بھی تھے۔اور پاکستانی بھی تھے اور غیر پاکستانی بھی تھے۔کسی نے سو پیش کیا، کسی نے سواسو، کسی نے ڈیڑھ سو کسی نے اڑھائی سو پونڈ 615