تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 603
تحریک جدید - ایک الجی تحریک۔۔۔جلد سوم - خطبہ جمعہ فرمودہ 09 مارچ1956ء پہنچے گا۔کیونکہ جب وہ تبلیغ سے واپس آئے گا تو اس کی ملازمت والی عمر نہیں رہے گی۔گویا کچھ عرصہ کے وقف کا طریق رائج کرنے سے نہ صرف سلسلہ کا روپیہ ضائع ہوگا بلکہ واقف زندگی بھی کسی سرکاری ملازمت کے حصول کے قابل نہیں رہے گا۔پس یہ تجویز گو بظاہر ٹھیک نظر آتی ہے لیکن در حقیقت معقول نہیں۔غرض یہ مختلف تجاویز ہیں، جو میرے خطبات کے بعد باہر کے بعض احمدی دوستوں نے لکھی ہیں اور ان کے متعلق میں نے اپنے خیالات کا اظہار کر دیا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جس شخص کی قسمت میں یہ لکھا ہو کہ وہ دین کی خدمت کرے گا، اسے اس کی توفیق مل جاتی ہے۔اور اگر اس خدمت میں اس کی جان بھی چلی جائے تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا۔اسلامی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ حنین کے موقع پر جب ہزاروں تیراندازوں نے تیروں کی بوچھاڑ شروع کر دی تو مسلمانوں کی سواریاں بدک کر میدان جنگ سے بھاگ پڑیں۔درحقیقت اس کی وجہ یہ ہوئی کہ جب اسلامی لشکر روانہ ہوا تو مکہ والوں نے خواہش کی کہ چونکہ ہم حدیث العہد ہیں اور اس سے قبل کسی لڑائی میں شامل نہیں ہوئے ، اس لئے اس موقع پر ہمیں بھی قربانی پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور دو ہزار نو مسلم بھی اسلامی لشکر کے ساتھ پڑے۔یہ لوگ کفار کے اچانک اور دوطرفہ حملہ کی برداشت نہ کر سکے اور واپس مکہ کی طرف بھاگے۔صحابہ گو اس قسم کی تکالیف اٹھانے کے عادی تھے مگر جب دو ہزار گھوڑے اور اونٹ ان کی صفوں میں سے بے تحاشا بھاگتے ہوئے نکلے تو ان کے گھوڑے اور اونٹ بھی ڈر گئے اور سارے کا سارا لشکر بے تحاشا پیچھے کی طرف دوڑ پڑا۔یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگر دصرف بارہ صحابی رہ گئے۔اور تین اطراف سے قریباً چار ہزار تیرانداز تیر برسا رہے تھے۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ ہماری سواریاں اس قدر ڈر گئی تھیں کہ ہمارے ہاتھ باگیں موڑ تے موڑتے زخمی ہو گئے لیکن اونٹ اور گھوڑے واپس مڑنے کا نام نہیں لیتے تھے۔بعض دفعہ ہم باگیں اس زور سے کھینچتے تھے کہ اونٹ یا گھوڑے کا سراس کی پیٹھ کو لگ جاتا مگر پھر جب ہم اسے پیچھے کی طرف موڑتے تو وہ بجائے پیچھے مڑنے کے اور بھی تیزی کے ساتھ آگے کی طرف بھاگ پڑتا۔اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس کو بلایا اور ان سے فرمایا، عباس ! بلند آواز سے کہو کہ اسے وہ لوگو، جنہوں نے حدیبیہ کے موقع پر بیعت رضوان کی تھی اور اسے وہ لوگو، جوسورۃ بقرۃ کے زمانہ کے مسلمان ہو، خدا تعالیٰ کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔حضرت عباس نے جب یہ آواز دی تو وہ صحابی کہتے ہیں کہ ہمیں یوں محسوس ہوا کہ گویا ہم مر چکے ہیں، قیامت کا دن آگیا ہے اور اسرافیل بگل بجا کر ہمیں 603