تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 602
خطبہ جمعہ فرمودہ 09 مارچ 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم دیکھا جاتا اور دوسری طرف یہ کہا جاتا ہے کہ عورتوں کو ڈاکٹری پڑھا کر ان کی واقفین زندگی سے شادی کر دینی چاہئے۔اگر جماعت کے لوگ اپنی ان پڑھ یا عام تعلیم یافتہ لڑکیاں ، بعض دوستوں کے خیال کے مطابق، واقفین زندگی کو دینے پر تیار نہیں تو وہ ڈاکٹری پاس لڑکیاں ان کے نکاح میں کیسے دے دیں گے؟ لیکن میں پھر کہوں گا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔جہاں جماعت کا فرض ہے کہ وہ واقفین زندگی کا اعزاز کرے، وہاں واقفین کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے حالات کو دیکھیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ انہیں دے، اس پر قناعت کریں۔یہ نہ سمجھیں کہ کسی جرنیل یا وزیر کی بیٹی ہی انہیں ملے گی تو شادی کریں گے، ورنہ نہیں۔پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ جماعت کے نوجوان مولوی کہلانے سے ڈرتے ہیں، اس لئے وہ اس طرف نہیں آتے۔اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک ظاہر کا تعلق ہے، ہم نے اس کا علاج کر دیا ہے۔چنانچہ ہم نے ان کی ڈگری کا نام شاہد رکھ دیا ہے۔وہ مولوی نہ کہلائیں ، شاہد کہلا ئیں۔لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لوگوں کو مولوی کہنے کی عادت پڑی ہوئی ہے اور اب اس عادت کو دور کرنا بہت مشکل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اگر مولوی کہا جاتا تو آپ چڑ جایا کرتے تھے۔مولوی محمد حسین بٹالوی آپ کو چڑانے کے لئے ہمیشہ مولوی غلام احمد کہا کرتا تھا ، جس پر آپ کو غصہ آجاتا تھا۔اور آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے کئی بارا سے کہا ہے کہ مجھے مولوی نہ لکھا کرو لیکن یہ مجھے چڑانے کے لئے ہے ہمیشہ یہی لکھتا ہے کہ مولوی غلام احمد کی یہ بات ہے۔مگر مولوی کہنے کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں۔کیونکہ دینی علوم کی طرف توجہ دلانے کے لئے مولوی کے سوا ہمارے پاس اور کوئی لفظ نہیں۔بہر حال ہم نے علماء کی ڈگری کا نام شاہد رکھا ہوا ہے۔اس سے بھی کسی حد تک مولویت پر پردہ پڑ جاتا ہے۔پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ ایسے واقفین زندگی کو منتخب کیا جائے، جو ساری عمر کے لئے باہر رہیں اور نہ صرف ساری عمر کے لئے باہر رہیں بلکہ اپنی جائیداد بھی جماعت کو دے دیں۔یہ بات بھی قابل عمل نہیں۔کیونکہ جو شخص اپنی زندگی وقف کرنے کے لئے تیار نہیں، اس سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ اپنی جائیداد بھی وقف کر دے، کہاں تک درست ہوسکتا ہے؟ پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ کچھ عرصہ کے وقف کا دستور رائج کیا جائے۔مگر یہ بات بھی قابل عمل نہیں۔کیونکہ ایک واقف زندگی کے تیار کرنے پر بڑی بھاری رقم خرچ ہو جاتی ہے۔اگر تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد کسی واقف زندگی کو صرف تین، چار سال کے لئے ہی رکھا جائے اور پھر اسے فارغ کر دیا جائے تو اس سے جماعت کو مالی نقصان پہنچے گا۔اور نہ صرف جماعت کو مالی نقصان پہنچے گا بلکہ اس واقف زندگی کو بھی نقصان 602