تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 604
خطبہ جمعہ فرمودہ 09 مارچ 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم بلا رہا ہے۔تب ہم میں سے جو اپنی سواریاں موڑ سکے، انہوں نے اپنی سواریاں موڑ لیں اور جوسواریاں موڑ نہ سکے، انہوں نے تلواروں سے اپنے اونٹوں اور گھوڑوں کی گردنیں کاٹ دیں اور خود دوڑتے ہوئے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ لبیک یار رسول اللہ ! لبیک یا رسول اللہ! اے رسول اللہ ! ہم حاضر ہیں۔اے رسول اللہ ! ہم حاضر ہیں۔اور چند منٹ میں ہزاروں کا لشکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد جمع ہو گیا۔دیکھو، صحابہ میں کس قدر جوش اور ایمان پایا جاتا تھا کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس آواز پر کہ خدا تعالیٰ کا رسول تمہیں بلاتا ہے، اپنی سواریوں کی گردنیں کاٹ دیں اور دوڑتے ہوئے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے۔اور انہوں نے کہا، یا رسول اللہ ! ہم اسلام کی خدمت کے لئے حاضر ہیں۔پس جن لوگوں کی قسمت میں دین کی خدمت کرنا ہوتا ہے، وہ خود بخود اس کے لئے آگے آجاتے ہیں۔لیکن جن لوگوں کی قسمت میں نیکی نہیں، انہیں نہ میرے خطبات کام دے سکتے ہیں، نہ دوسروں کی مثالیں انہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہیں، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں انہیں دین کی خدمت کے لئے آگے لا سکتی ہیں اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی باتیں انہیں اس طرف توجہ دلا سکتی ہیں۔وہ ازلی محروم ہیں۔ان کو برکت کون دے؟ برکت اسی کو ملے گی ، جس کی قسمت میں وہ پہلے سے لکھی ہوئی ہے۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ مرزا غالب کو آم بہت پسند تھے۔ایک دن وہ بادشاہ کو ملنے گئے تو وہ انہیں اپنے باغ میں لے گیا۔پرانے زمانہ میں درباریوں کو یہ ادب سکھایا جا تا تھا کہ وہ ہمیشہ بادشاہ کی طرف اپنا منہ رکھا کریں۔لیکن مرزا غالب بار بار آموں کی طرف دیکھتے۔بادشاہ نے کہا، مرزا غالب یہ کیا بات ہے؟ تم بار بارا دھر کیوں دیکھتے ہو؟ انہوں نے کہا، حضور میں نے سنا ہوا ہے کہ جب خدا تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اس دنیا میں بھیجتا ہے تو وہ رزق پر اس کا نام لکھ دیتا ہے۔میں دیکھ رہا ہوں کہ شاید کسی ام پر میر ایا میرے باپ دادا کا بھی نام لکھا ہوا ہو۔بادشاہ ہنس پڑا اور اس نے اپنے ایک نوکر کو حکم دیا کہ وہ مرزا غالب کے گھر آم دے آئے۔پس جس کی قسمت میں خدا تعالیٰ نے دین کی خدمت لکھی ہے، اس کے راستہ میں خواہ دس میل تک زہریلے سانپ ہوں، وہ انہیں کچلتا ہوا آگے آجائے گا اور خواہ جنگی تلواریں کھڑی ہوں اور اس بات کا خوف ہو کہ اگر وہ آگے بڑھا تو اس کی گردن کٹ جائے گی ،تب بھی وہ دین کی خدمت کے لئے آجائے گا۔بلکہ دین کی خدمت تو بڑی چیز ہے ہم دیکھتے ہیں کہ باطل کے ساتھ محبت رکھنے والے بھی کسی مصیبت کی پرواہ نہیں کرتے۔604