تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 581

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 10 فروری 1956ء انہیں منظور کرنی پڑے گی۔اس وقت بھی جبکہ ہماری حکومت فوجی بھرتی کے لئے جر کا استعمال نہیں کرتی ایک سپاہیکی تنخواہ علاوہ راشن کے بتیس تینتیس روپے سے زیادہ نہیں۔لیکن ایک معمولی چپڑاسی کی تنخواہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔حالانکہ سپاہی ملک کے لئے اپنی جان پیش کرتا ہے اور اس پر بہت کچھ پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔لیکن چپڑ اس کو نہ اپنی جان پیش کرنا پڑتی ہے اور نہ اس پر اتنی پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔گویا تنخواہ کے لحاظ سے فوج کا سپاہی معمولی چپڑاسی سے کم ہے۔لیکن محض اس لئے کہ اس کے وجود کی ملک کو ضرورت ہوتی ہے، اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔انگلستان میں ایک دفعہ ایسا ہوا تھا کہ بعض لوگوں نے جبری بھرتی پر اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ ایسا کرنا آزادی ضمیر کے خلاف ہے۔لیکن جب جرمنی کے مقابلہ میں انگلستان کولڑنا پڑا تو حکومت نے ملک میں جبری بھرتی کا قانون پاس کر دیا۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے، امریکہ میں بھی جبری بھرتی کا قانون نافذ ہے۔حال ہی میں مجھے ایک امریکن احمدی نوجوان نے لکھا ہے کہ میں دین کے لئے اپنی زندگی وقف کرتا ہوں۔لیکن میں فوری طور پر اپنے آپ کو پیش نہیں کر سکتا۔کیونکہ جبری بھرتی کے قانون کے ماتحت میں آئندہ پانچ سال تک فارغ نہیں ہو سکتا۔چونکہ اس عرصہ کے ختم ہونے سے پہلے حکومت مجھے آنے نہیں دے گی ، اس لئے جب یہ مدت ختم ہو جائے گی تو پھر میں کام کے لئے آجاؤں گا۔پس جماعت کے نوجوانوں کو یہ یادرکھنا چاہئے کہ سلسلہ کا کام علماء نے کرنا ہے۔اور اگر علماء کی صف میں رخنہ پیدا ہوا تو سلسلہ ختم ہو جائے گا۔پس تم اس نقطہ نگاہ سے نہ سوچا کرو کہ ہمیں کیا گزارہ ملتا ہے؟ بلکہ تم اس نقطہ نگاہ سے سوچا کرو کہ کیا تمہارے بغیر دین باقی رہ سکتا ہے؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سلسلہ احمدیہ روحانی طور پر ہمیشہ قائم رہے گا۔اگر تم اپنے آپ کو آگے نہیں لاؤ گے تو خدا تعالیٰ دوسرے نو جوانوں کو اس کام کے لئے کھڑا کر دے گا۔لیکن یہ تو روحانی مسئلہ ہے، اگر جسمانی طور پر دیکھا جائے تو جس طرح فوج کے بغیر کسی دنیوی حکومت کا برقرار بناممکن نہیں ، اسی طرح علماء نہ ہوں تو دین قائم نہیں رہ سکتا۔دینی جماعت کی فوج اس کے علماء ہیں۔اگر علماء ہی نہ ہوں گے تو تبلیغ کیسے وسیع ہوگی؟ اسلام کی اشاعت کیسے ہوگی؟ اس وقت حالت یہ ہے کہ ہمارے پاس جو مبلغ ہیں، وہ بہت تھوڑے ہیں۔اور دنیا ہم سے مبلغین مانگ رہی ہے۔امریکہ والے مبلغ مانگ رہے ہیں ، یورپ والے مبلغ مانگ رہے ہیں، ویسٹ افریقہ والے مبلغ مانگ رہے ہیں، ایسٹ افریقہ والے مبلغ مانگ رہے ہیں۔لیکن مالی لحاظ سے ہماری یہ حالت ہے کہ ہم ان مبلغین کو بھی، جو اس وقت ہمارے پاس ہیں اور ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے، گزارہ نہایت قلیل مقدار میں دے رہے ہیں۔بلکہ جو گزارہ ہم دے رہے ہیں، بعض اوقات اس کی ادائیگی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔کیونکہ خزانہ میں روپیہ نہیں ہوتا۔581