تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 580

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 10 فروری 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ہمیں بھی انہیں جبر سے اس طرف لانا پڑے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے پاس دنیوی جیل خانے نہیں اور نہ ہمارے پاس حکومت ہے کہ ہم انہیں اس قسم کی کوئی سزا دے سکیں۔لیکن محبت اور تعلق کا جیل خانہ تو ہمارے پاس موجود ہے، اگر کوئی شخص وقف میں نہیں آئے گا تو ہم کہیں گے اچھا آئندہ ہم تم سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے۔آخر جو شخص مسلمان ہوتا ہے ، وہ کسی جبر کی وجہ سے مسلمان نہیں ہوتا ، وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوتا ہے، وہ اپنی مرضی سے احمدی ہوتا ہے۔اور جو شخص اپنی مرضی سے احمدیت کو قبول کرتا اور جماعت کا ایک فرد بن جاتا ہے، اس کی نظر میں جماعت کے تعلق کی کوئی نہ کوئی قیمت ضرور ہوتی ہے۔اس لئے ہم اسے کہہ سکتے ہیں کہ اگر تمہارے خیال میں جماعتی تعلق کی کوئی قیمت ہے تو تم اس کی خدمت کے لئے اپنی زندگی پیش کرو۔اور اگر تم اس کی خدمت کے لئے آگے نہیں آؤ گے تو ہم تم سے اپنی محبت کے تعلق کو توڑ دیں گے۔اگر دنیوی حکومتوں نے اپنی ضروریات کے وقت جبری بھرتی کا قانون جائز رکھا ہے تو ہم اپنے نو جوانوں کو وقف کے لئے کیوں مجبور نہیں کر سکتے ؟ آخر تمہاری امنگیں اور تمہارے جذبات امریکہ کے نوجوانوں کی امنگوں اور جذبات سے زیادہ نہیں۔تمہاری امنگیں اور جذبات انگلستان کے نو جوانوں کی امنگوں اور جذبات سے زیادہ نہیں۔تمہاری امنگیں اور جذبات یورپ کے نوجوانوں کی امنگوں اور جذبات سے زیادہ نہیں۔اگر ان ممالک کے نوجوان کم گزارہ پر ملک کی خدمت کے لئے آگے آجاتے ہیں اور اگر وہ آگے نہیں آتے تو انہیں جبراً آگے لایا جاتا ہے تو دین کی خدمت کے لئے زندگی وقف کرانے کے لئے جماعت کے نوجوانوں پر روحانی دباؤ سے کام کیوں نہیں لیا جاسکتا ؟ انگلستان میں فوجی سپاہیوں کو کھانے کے علاوہ جو رقم دی جاتی ہے، اس سے زیادہ رقم وہ اپنے چوڑھوں کو دے دیتے ہیں۔اور اس قدر رقم بھی تھوڑے عرصہ سے ملنی شروع ہوئی ہے، ورنہ ایک زمانہ ایسا تھا، جب وہاں ایک سپاہی کو اس کے کھانے کے اخراجات کے علاوہ صرف دو شلنگ یعنی ڈیڑھ روپیہ ماہوار دیا۔جاتا تھا۔گویا ایک سپاہی کی تنخواہ 6 روپے ماہوار تھی۔اب اس تنخواہ کو بڑھا دیا گیا ہے۔لیکن پھر بھی وہ تنخواہ ایسی زیادہ نہیں۔پس اگر دنیوی حکومت فوجی بھرتی کے لئے جبر کا استعمال کرتی ہے اور کوئی شخص اس پر اعتراض نہیں کرتا تو دینی سلسلہ علماء تیار کرنے کے لئے اپنے نو جوانوں کو روحانی دباؤ ڈال کر کیوں آگے نہیں لاسکتا؟ اور حکومتوں کو جانے دو، پاکستان کی حکومت کو ہی لے لو۔اگر اسے ملک کی حفاظت کے لئے کافی نوجوان فوج میں بھرتی کرنے کے لئے نہ ملیں تو لازما وہ اس بات پر مجبور ہوگی کہ اس کے لئے جبری بھرتی کرے اور کسی شخص کو اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہوگا۔اور پھر ملک جو تنخواہ بھی ان نو جوانوں کو دے گا ،وہ 580