تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 511

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09 ستمبر 1955ء پر اعتراض کرتے ہیں۔میں نے کہا، تمہیں یہ نظر نہیں آتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہم لوگ ہی یورپ میں پھیلا رہے ہیں اور ہمیں ہی مسلمانوں کے نزدیک واجب القتل سمجھا جاتا ہے۔وہ کہنے لگا، مجھے ایک معزز مسلمان ملا تھا، میں نے اس سے یہی کہا کہ اسلام پھیلانے والے تو یہی لوگ ہیں اور ہم تک اگر اسلام پہنچا ہے تو انہی کے ذریعہ تم ان لوگوں کی مخالفت کر کے اپنا بیڑا کیوں غرق کر رہے ہو؟ ان پر ہماری اسلامی خدمات کا اتنا گہرا اثر ہے کہ یہی ڈسمنڈ شا( Desmend Shaw) دعوت استقبالیہ میں مجھے ملا اور چلا گیا۔پھر ظفر اللہ خان سے ملا اور کہنے لگا کہ میں حضرت صاحب سے ابھی نہیں ملا اور یہ کہہ کر وہ پھر میرے ملنے کے لئے آگیا۔اسی طرح تین، چار دفعہ ہوا۔وہ بار بار میرے ملنے کے لئے آ جاتا۔آخر جب میں اٹھا تو اس وقت بھی وہ میرے سامنے والی میز پر بیٹھا ہوا تھا۔وہ بار بار یہی کہتا کہ میں بچپن سے محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا قائل ہوں اور سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑا نی ہوا ہے اور اس کی تعلیم پر عمل کرنے میں ہی برکت ہے۔غرض یورپ کا مزاج اب اسلام کی طرف آرہا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابھی ان میں ایسے لوگ موجود ہیں، جو پدرم سلطان بود کے مطابق سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے ہیں اور یہ ایشائی چھوٹے ہیں۔لیکن ان کے اعلیٰ درجہ کے طبقہ میں اب وہ لوگ بھی پیدا ہور ہے ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو نہ ماننا، بے وقوفی ہے۔آپ دنیا کی طرف ایک نور اور رحمت لائے ہیں اور آپ کی پیروی میں ہی امن اور سلامتی ہے۔مجھ سے ہمبرگ میں ایک مودودی طرز کا آدمی ملا۔وہ اپنے آپ کو عراقی کہتا تھا۔لیکن لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک معجون مرکب کی قسم کا آدمی ہے۔کبھی یہ اپنے آپ کو بہائی کہتا ہے اور کبھی مودودی۔اس نے ہمیں دھوکا دیا۔جب اسے بتایا گیا کہ میں بیماری کی وجہ سے مل نہیں سکتا تو وہ کہنے لگا کہ میں صرف مصافحہ کرنا چاہتا ہوں۔مگر پھر اس نے بحث شروع کر دی۔آخر جر من لوگ اسے اٹھا کر لے گئے اور انہوں نے کہا کہ یہ ہماری دعوت تھی، اس میں تم بغیر ہماری اجازت کے کیوں آئے ؟ ہم ابھی پولیس کو اطلاع دیتے ہیں۔دوسرے دن وہاں کے ایک نو مسلم مجھ سے معافی مانگنے آئے اور انہوں نے کہا کہ اس شخص کی وجہ سے آپ جرمن قوم کو برا نہ سمجھ لیں۔یہ ایشائی تھا، اس لئے اس نے غلطی کی ہے۔اس وقت میری بھی ایشائی رگ بھڑک اٹھی اور میں نے کہا کہ برے آدمی ایشیا میں ہی نہیں ہوتے ، یورپ میں بھی موجود ہیں۔وہ کہنے لگے، بے شک موجود ہیں۔میں صرف یہ کہنے آیا تھا کہ آپ کے دل میں ہمارے متعلق ناراضگی پیدا نہ ہو۔511