تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 512
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ہم آپ کو اپنا معزر مہمان سمجھتے ہیں اور یہ شخص ، جس نے غلطی کی ایشیائی تھا۔میں نے کہا، ایشیائی تو تھا مگر اس کو کی اپنی حرکات اسلامی تعلیم کے خلاف تھیں۔مودودی لوگ ہم کو مسلمان نہیں سمجھتے۔مگر اس نے خود قرآن کے خلاف عمل کیا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم سے ان کے مخالف بحث کر رہے تھے کہ انہوں نے ستاروں میں دیکھا اور کہا کہ میں بیمار ہوں اور یہاں مجھے دس ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ میں بیمار ہوں۔مگر ابراہیم کے مخالف تو اتنے شریف تھے کہ اٹھ کر چلے گئے اور اس شخص کو ڈاکٹری گواہی بھی بتائی گئی مگر پھر بھی اس نے کہا کہ میں مسئلہ حل کئے بغیر واپس نہیں جاسکتا۔پس اس شخص نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ یہ مسلمان نہیں۔ورنہ قرآن تو کہتا ہے۔فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ فَقَالَ إِنِّي سَقِيمُ ابراہیم نے ستاروں کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں بیمار ہوں اور وہ لوگ چلے گئے۔اور یہاں دس ڈاکٹر اعلان کرتے ہیں کہ آپ کو زیادہ بولنا نہیں چاہئے اور پھر بھی وہ بحث کرتا چلا گیا۔پس اس نے اپنے دعوی اسلام کے باوجود خود اس کے خلاف عمل کیا ہے۔ایسے شخص کے کسی فعل کی وجہ سے میں آپ پر کس طرح ناراض ہوسکتا ہوں۔چونکہ جس جگہ میں ٹھہرا ہوا ہوں، اس کے پاس اور بھی مکان بن رہے ہیں، جن کی وجہ سے شور رہتا ہے۔اس لئے آج صبح سے میرے دماغ پر اس کا اثر ہے اور زیادہ بولنا میرے لئے مشکل ہے۔میں اس پر اپنے خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔صرف اس قدر کہ دینا چاہتا ہوں کہ شروع میں، میں نماز زیادہ بھول جایا کرتا تھا مگر آہستہ آہستہ یہ نقص جاتا رہا۔لندن میں بھی یاداشت ٹھیک رہی مگر شور کی وجہ سے آج چونکہ دماغی پریشانی زیادہ ہے، اس لئے اگر میں بھول جاؤں تو میرے پیچھے نماز پڑھنے والے مجھے یاد دلا دیں۔(مطبوعه روزنامه الفضل 08اکتوبر 1955ء) 512