تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 510

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم مقابلہ میں تھے۔انگلستان کے لوگ بالکل سست اور نکھے ہیں۔کام کریں گے تو ہاتھ پیچھے ڈالیں گے اور مزدوری پہلے مانگیں گے۔ان کی حالت بالکل پرانے زمانے کے کشمیریوں کی سی ہوگئی ہے۔ایک دفعہ ہم کشمیر گئے اور اسباب اتارا تو ہم نے ایک مزدور کو بلایا کہ یہ سامان اٹھا کر ایک سرائے میں رکھ دو۔اس نے کہا، میں دو پیسے فی تنگ لوں گا؟ ہم نے کہا، بہت اچھا نگ اٹھاؤ اور رکھ دو۔ہم تمہیں اجرت دے دیں گے۔مگر اس کے لالچ کی یہ کیفیت تھی کہ وہ ہرنگ کے اٹھانے سے پہلے کہتا کہ لاؤ پونسہ۔اور جب تک اسے دو پیسے نہ دے دیئے جاتے ، وہ نگ نہ اٹھاتا۔میری اس وقت چھوٹی عمر تھی اور میر محمد الحق صاحب بھی میرے ساتھ تھے۔ہم نے اس کے ساتھ مذاق شروع کر دیا۔ایک ایک چیز پر ہم اسے پیسے دیتے اور وہ اٹھا کر اندر رکھ دیتا۔جب ہم سرائے کے برآمدہ میں داخل ہوئے تو برآمدہ کے ساتھ ہم نے اپنی چھتری رکھ دی۔اس کے بعد ہمیں مذاق سوجھا اور ہم نے کہا کہ اب اسے کہتے ہیں کہ یہ چھتری اٹھا کر دے دو۔دیکھیں، اب بھی یہ کچھ مانگتا ہے یا نہیں ؟ چنانچہ ہم نے اسے کہا کہ یہ چھتری ہمیں پکڑا دو۔اس پر وہ جھٹ کہنے لگا "لا و پونسہ۔یہی انگریزوں کا حال ہے۔ان کا اپنا ملک گزشتہ جنگ کے نتیجہ میں تباہ پڑا ہے مگر وہ گرے ہوئے مکانوں کو بنا نہیں سکے۔اور جرمنی کی یہ حالت ہے کہ وہ لوگ صبح سے شام تک کام کرتے ہیں اور انہوں نے اپنی ساری عمارتیں دوبارہ کھڑی کر لیں ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے ان ملکوں میں اسلام کی طرف رغبت پیدا کر دی ہے، اب ہمیں ان کی اس رغبت سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔حقیقت یہ ہے کہ فصل تو تیار ہے ، صرف اس کے کاٹنے والے چاہئیں۔اگر تم اس فصل کے کاٹنے والے بن جاؤ تو تم دیکھو گے کہ سارا یورپ ایک دن اسلام کی آغوش میں آجائے گا۔اس وقت مشکل یہ ہے کہ غلہ کو سنبھالنے والا کوئی نہیں۔مگر بہر حال اللہ تعالیٰ نے یہ غلہ تمہارے لئے ہی رکھا ہوا ہے اور تم ہی اس فصل کے کاٹنے والے ہو۔جو مسائل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں پیش کئے تھے، آج یورپین دنیا انہیں مسائل کی طرف آرہی ہے اور وہ اسلام کی فوقیت اور اس کی برتری کو تسلیم کر رہی ہے۔ڈسمنڈ شا (Desmend Shaw) انگلستان کے بہترین مصنفوں میں سے ہے۔کم از کم وہ خود اپنے آپ کو ایچ۔جی۔ویلز سے بھی بڑا سمجھتا ہے۔وہ مجھے ملا تو کہنے لگا، سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ امن پھیلانے والا جو نبی آیا تھا، اسی کو لڑائی کرنے والا نبی کہا جاتا ہے۔اور پادری اس کو 510