تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 509

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09 ستمبر 1955ء میں نے خود ہمبرگ کو دیکھا، وہاں چودہ لاکھ کی آبادی ہے اور امیرانہ ٹھاٹھ کے ساتھ رہنے والے لوگ ہیں۔مگر ایک عمارت بھی مجھے ٹوٹی ہوئی نظر نہیں آئی۔اس کے مقابلہ میں انگلستان میں بمباری سے صرف چند ہزار مکان ٹوٹا تھا مگر اب بھی وہ اسی طرح گرا پڑا ہے۔پھر ان کی ہمتیں ایسی بلند ہیں کہ ایک جرمن ڈاکٹر سے میں نے وقت مقرر کیا۔جب میں وہاں پہنچا تو وہ جگہ، جو ہسپتال کی یونیورسٹی تھی ، وہاں بم گرنے کی وجہ سے اس مسجد کے برابر برابر شگاف پڑے ہوئے تھے اور اندر صرف دو، تین ٹوٹی ہوئی کرسیاں اور ایک ردی کی چار پائی رکھی تھی۔اور انہی ٹوٹی ہوئی کرسیوں پر ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر کام کر رہے تھے۔میں جب گیا تو ایک ادنی سی کرسی پر انہوں نے مجھے بھی بٹھا دیا۔مگر ان کے چہروں پر اس قدر بشاشت تھی کہ وہ رپورٹ پڑھتے جاتے اور ہنستے جاتے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا ان کے ہاں کوئی شادی کی تقریب ہے۔جس ڈاکٹر نے میرا امعائنہ کرنا تھا، وہ اس وقت ایک 135 میل دور کسی اور مقام پر کسی ضروری آپریشن کے لئے گیا ہوا تھا اور چونکہ میرے ساتھ وقت مقرر تھا، اس لئے وہ وہاں سے موٹر دوڑاتے ہوئے پہنچا اور کمرہ میں آتے ہی بغیر سانس لئے میرا معائنہ شروع کر دیا۔اگر کوئی ہمارا آدمی ایسے موقعے پر آتا تو وہ پہلے یہی کہتا کہ (ساہ تے لین دیو) یعنی پہلے مجھے سانس تو لینے دو، پھر میں معائنہ بھی کرتا ہوں۔مگر اس نے بغیر سانس لئے میرا معائنہ شروع کر دیا۔اور پھر جب ہم نے اسے فیس دینا چاہی تو اس نے فیس لینے سے انکار کر دیا۔دوسری دفعہ ہم نے اس کے سیکرٹری سے کہا کہ فیس لے لی جائے۔اس نے فون کیا تو جرمن ڈاکٹر نے اسے ڈانٹا اور کہا کہ میں ایک دفعہ جو کہ چکا ہوں کہ میں نے فیس نہیں لینی۔اس کے بعد ہم نے اپنے جرمنی مبلغ سے کہا کہ تم اس سے جا کر کہو کہ ہم اتنی دور سے یہاں علاج کرانے کے لئے ہی آئے ہیں، اس لئے آپ اپنی فیس لے لیں۔مگر اس نے پھر یہی کہا کہ یہ مذہبی آدمی ہیں، اس لئے میں نے ان سے فیس نہیں لینی۔پندرہ بیس منٹ اس کے ساتھ جھگڑار ہا مگر اس نے فیس نہیں لی۔غرض ان کے اندر اس قدر جوش پایا جاتا ہے اور اس قدر ہمت اور کام کرنے کی روح پائی جاتی ہے کہ ہر شخص کی حالت کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے، جیسے وہ یہ ارادہ کر کے بیٹھا ہے کہ وہ دنیا میں کوئی نہ کوئی کام ضرور کر کے رہے گا۔ان کے مقابلہ میں ہمیں اپنے ملک کی حالت قیاس کرتے ہوئے شرم آتی ہے کہ وہ بھی ہمارے جیسے آدمی ہیں مگر ہماری محنت اور ان کی محنت اور ہمارے کام اور ان کے کام میں آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں۔انگلستان ان کے مقابلہ میں ایسا ہی ہے، جیسے کسی زمانہ میں ہندوستانی انگریزوں کے 509