تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 39
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 28 مئی 1948ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد سوم دینا چاہتا ہوں۔وہ تبدیلی یہ ہے کہ بجائے 25 فیصدی کے ساڑھے سولہ فی صدی اور بجائے 50 فیصدی کے 33 فیصدی حد رکھی جائے۔اس میں وہ تمام چندے شامل ہوں گے، جو اس وقت تک سلسلہ کی طرف سے عائد ہیں۔مثلاً تحریک جدید کا چندہ ، جلسہ سالانہ کا چندہ، نئے مرکز کا چندہ ، انجمن کا چندہ لیکن شرط یہ ہوگی کہ اس تحریک سے پہلے یعنی ستمبر والی تحریک سے پہلے، جو چندہ کوئی شخص دیتا تھا ، اس سے یہ چندہ کم نہ ہو۔مثلاً اگر 1946 ء ی 1947ء میں کسی نے کوئی وعدہ کیا تھا اور اس وعدہ کے مطابق سوائے اطاعت مرکز کے چندہ کے تحریک جدید اور دوسرے چندہ کو ملا کر اس کا چندہ ساڑھے سولہ فیصدی سے زائد ہو جائے تو اسے زیادہ دینا پڑے گا اور اگر اس سے کم ہو تو اتنا چندہ ہی کافی سمجھا جائے گا۔حفاظت مرکز کے چندہ کے لئے جو تحریک کی گئی تھی، چونکہ وہ رقم بڑی بھاری ہے، اس لئے شرط یہی ہوگی کہ اگر کوئی شخص 25 فیصدی چندہ دیتا ہے تو چندہ حفاظت مرکز اس میں شامل ہوگا۔لیکن 25 فی صدی تک اگر چندہ نہیں دیتا تو حفاظت مرکز کا چندہ اس میں شامل نہیں ہوگا۔ساڑھے سولہ فی صدی میں سے تمام چندوں کو نکال کر جو روپیہ باقی بچے گا، اسے علیحدہ ریز رور کھا جائے گا۔مثلاً ایک شخص کا چندہ 15 فیصدی بنتا ہے تو اس میں سے ڈیڑھ فیصدی ریز در فنڈ میں شامل کر دیا جائے گا۔اور اگر بارہ فیصدی بنتا ہے تو ساڑھے 4 فیصدی ریز روفنڈ میں شامل کر لیا جائے گا۔اور اگر دس فیصدی بنتا ہو تو ساڑھے چھ فیصدی ریز روفنڈ میں شامل کر دیا جائے گا۔حفاظت مرکز کی اس سال کی تحریک کے ختم ہونے کے بعد آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اس وقت تک اسے جاری رکھا جائے گا، جب تک ہمیں قادیان واپس نہیں مل جاتا۔بلکہ قادیان کے مل جانے کے بعد بھی اس تحریک کو چند سالوں تک جاری رکھنا پڑے گا۔بہر حال اس سال، جو تحریک کی گئی ہے، اس کا ادنی درجہ ساڑھے سولہ فیصدی ہوگا اور اوپر کا درجہ 1/3 تک کا بشر طیکہ کسی کے پچھلے موعودہ چندوں کی مقدار ساڑھے سولہ فیصدی سے زیادہ نہ ہو جاتی ہو۔ایسی صورت میں وہ اپنے موعودہ چندہ کے مطابق چندہ دے گا۔اس کے علاوہ اس وقت میرے نزدیک کم سے کم تحریک یہ ہونی چاہیے کہ جماعت کا ہر فر دوصیت کر دے۔دنیا میں ہر چیز کے مظاہرے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ہمارے ہاتھ سے قادیان نکل جانے کی وجہ سے دشمن کی نظریں اس وقت خاص طور پر اس امر کی طرف لگی ہوئی ہے کہ بہشتی مقبرہ ان کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے، جس کے لئے یہ لوگ وصیت کیا کرتے تھے۔اب ہم دیکھیں گے کہ یہ لوگ کیسے وصیت کرتے ہیں؟ اس اعتراض کو رد کرنے کا ہمارے پاس ایک ہی ذریعہ ہے کہ ہر احمدی وصیت کر دے اور دنیا کو بتا دے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کے وعدوں پر جو ایمان اور یقین حاصل ہے ، وہ قادیان کے ہمارے ہاتھ سے نکلنے یا 39