تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 40

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مئی 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم سے وابستہ نہیں۔بلکہ ہم ہر حالت میں اپنے ایمان پر قائم رہنے والے ہیں۔یہ کم سے کم مظاہرہ ایمان ہے، جس کی اس وقت تم سے امید کی جاتی ہے۔پس جو شخص ساڑھے سولہ فیصدی بھی نہیں دے سکتا۔میں سمجھتا ہوں اس کے لئے کم از کم اس قدر ایمان کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے کہ وہ وصیت کر دے۔اور کوشش کرے کہ ہماری جماعت میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے، جس نے وصیت نہ کی ہو۔اگر اس تحریک کو پورے زور سے جاری رکھا جائے تو دشمن کا منہ خود بخود بند ہو ہو جائے گا اور وہ سمجھے گا کہ ان لوگوں میں ایمان کی کچی حلاوت پائی جاتی ہے۔پس ہر شخص کو چاہیے کہ وہ وصیت کر دے اور اس طرح دنیا کو بتا دے کہ قادیان کے نکلنے سے ہمارا ایمان کمزور نہیں ہوا۔بلکہ ہم اپنے ایمان میں پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ مقبرہ بہشتی کے وعدے دنیا کے ہر گوشہ میں ہم کو ملتے رہیں گے۔ایک بات میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ چونکہ اس کا تعلق صدر انجمن احمدیہ سے ہے اور دفاتر میں عام طور پر رقابت پائی جاتی ہے، اس لئے اس بارہ میں احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ صدر انجمن احمدیہ میں جماعتوں اور افراد کی طرف سے اس تحریک کے سلسلہ میں جو روپیہ آ رہا ہے، اس میں تحریک جدید کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے۔مگر صدر انجمن احمد یہ خاموشی سے اس روپیہ کو اپنے خزانہ میں ڈال لیتی ہے۔تحریک جدید والوں کو ان کا چندہ ادا نہیں کرتی۔پس چونکہ اس قسم کے خدشات کو موجود ہیں، اس لئے میں یہ قانون مقرر کرتا ہوں کہ ہر شخص کی طرف سے صدر انجمن احمدیہ کو جو چندہ ملتا ہے، اس سے زیادہ کی وہ مالک نہیں ہوگی، جتنا کوئی پہلے چندہ دیا کرتا تھا۔اسی نسبت سے صدر انجمن احمد یہ کو چندہ ملے گا۔باقی روپیہ میں اگر تحریک جدید کا چندہ شامل ہوگا تو وہ حصہ تحریک جدید کو ملے گا ، حفاظت مرکز کا چندہ شامل ہوگا تو اتنا حصہ حفاظت مرکز کو ملے گا اور جو کچھ باقی بچے گا، اسے میں اپنے اختیار سے سلسلہ کے مختلف محکموں میں تقسیم کر دوں گا۔وہ رقم صدر انجمن احمدیہ کی ملکیت نہیں ہوگی۔صدر انجمن احمد یہ کا حصہ صرف اتنا ہی ہوگا، جتنا اسے پہلے ملاکرتا تھا۔لیکن بہر حال صدر انجمن احمدیہ کے پاس عذر ہوتا ہے کہ چندہ آیا، بھیجنے والے نے کوئی خاص وضاحت نہیں کی تھی ، اس لئے ہم نے اسے اپنے خزانہ میں داخل کر لیا۔اگر چندہ بھیجنے والا واضح کر دیتا تو ایسا نہ ہوتا۔پس میں جماعت پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص فتنہ سے بچنا چاہتا ہے اور آئندہ خط و کتابت کی اس مصیبت سے نجات حاصل کرنے کا خواہش مند ہے تو اسے تحریک جدید والوں کو بھی لکھ دینا چاہیے کہ اتنا چندہ میں دیا کرتا ہوں۔اس میں اتنا حصہ تمہارا ہے، باقی ریز روفنڈ میں شامل کر دیا جائے اور 40