تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 38
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 مئی 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم سے زیادہ شاندار ہوتی ہے اور ہونی چاہیے۔کیونکہ جہاں تک ایمان کامل کا سوال ہے، اس میں کسی نسبت ) اور غیر نسبت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مومن کی طرف سے شرطیں نہیں ہوا کرتیں ، مومن کی طرف سے حد بندیاں نہیں ہوا کریں۔یہ سب چیزیں ایمان کی کمزوری تک ہی چلتی ہیں۔وو یہ سمجھتے ہوئے کہ جماعت ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی کہ بلاشرط قربانی کے لئے تیار ہو جائے۔یہ تحریک کی تھی کہ اس بڑی مصیبت کے نازل ہونے کے بعد جبکہ ہماری جماعت کی جائیدادیں مکان کی صورت میں بھی اور نقد روپیہ کہ صورت میں بھی ضائع ہو چکی ہیں اور باہر اور قادیان میں ہمارے اخراجات بڑھ گئے ہیں ، جماعت کے افراد 25 فیصدی سے لے کر 50 فیصدی تک چندہ دیں۔مگر اس مجلس میں شریک ہونے والوں میں سے چند افراد کے سوا باقی جماعت نے اس میں حصہ نہ لیا۔لیکن اس تحریک کو میں نے جاری رکھا اور یہ تحریک مختلف ذرائع سے کی جاتی رہی۔کیونکہ میرا یہ تجربہ ہے کہ اکثر افراد کے دلوں میں ایمان موجود ہے۔گو وہ کمزور ہی سہی، ایسا ہی سہی، جیسے بجلی کے قمقموں کے مقابلہ میں مٹی کے تیل کا ایک چھوٹا سا دیا ہوتا ہے، لیکن ہے ضرور۔میں نے سمجھا کہ متواتر تحریک کے نتیجہ میں جماعت کا ایک حصہ ضرور اس پر عمل پیرا ہو گا۔گو میں یہ سمجھتا تھا کہ جماعت ایمان کے اس مقام پر نہیں پہنچی کہ اس کا سو فیصدی یا ایک معتد بہ حصہ اس میں حصہ لے۔چنانچہ متواتر تحریک کے نتیجہ میں بہت سے لوگ ، جنہوں نے پہلے اس تحریک میں حصہ نہیں لیا تھا ، اب انہوں نے بھی حصہ لینا شروع کر دیا ہے۔اور شاید اب سینکڑوں تک ایسے لوگوں کی تعداد پہنچ گئی ہو، جنہوں نے 25 سے 50 فیصدی تک چندہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔لیکن جماعت کی تعد ادلا کھوں کی ہے، ہزاروں کی بھی نہیں۔اس لئے سینکڑوں کا لفظ ہمارے لئے کسی قسم کی خوشی کا موجب نہیں ہوسکتا۔بہر حال یہ تحریک بڑھ رہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر اسے جاری رکھا جائے تو یہ سینکڑوں سے نکل کر ہزاروں تک پہنچ جائے گی۔لیکن جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا ہے، میری رائے یہ ہے کہ بعض افراد کا زیادہ۔سے زیادہ قربانی کرنا، اتنا خوش کن نہیں ہوسکتا، جتنا زیادہ سے زیادہ افراد کا تھوڑی قربانی کرنا۔گوتجربہ نے بتا دیا ہے کہ جماعت متواتر تحریکات کے نتیجہ میں اپنے اخلاص میں ترقی کرتی ہے اور کرتی چلی جائے گی۔پہلے اگر روکیں پیدا بھی ہوں تو آہستہ آہستہ وہ روکیں دور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔اس تحریک کے شروع میں بھی روکیں پیدا ہوئیں لیکن وہ روکیں آہستہ آہستہ دور رہورہی ہیں اور لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔لیکن اس رفتار کو دیکھ کر میں ڈرتا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں زیادہ تر جماعت ثواب سے محروم رہ جائے گی۔اس لئے غور کرنے پر میں نے اس سکیم میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں ، جن کا میں آج اعلان کر 38