تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 504
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم لوگ، جو میرے سامنے بیٹھے ہیں، آپ میں سے شاید ایک فی صدی کی بھی اتنی بڑی داڑھی نہیں۔مجھے جب وہ ملا تو کہنے لگا کہ میرے دوست جب مجھے دیکھتے ہیں تو مجھے پاگل کہتے ہیں۔میں نے کہا، اگر آپ کی داڑھی نہ ہوتی تو میں آپ کو پاگل سمجھتا۔ان کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ داڑھی رکھنے والا پاگل ہے اور میرا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ داڑھی نہ رکھنے والا پاگل ہے۔جو لوگ داڑھی نہیں رکھتے ، وہ داڑھی رکھنے والے کو پاگل سمجھتے ہیں اور جو داڑھی رکھتے ہیں، وہ داڑھی نہ رکھنے والوں کو پاگل سمجھتے ہیں۔بہر حال جب تک دنیا میں اختلاف رہے گا، دنیا میں یہ فتوے جاری رہیں گے۔مجھے وہاں کے مبلغین نے بتایا کہ اس شخص کی اسلام کی طرف رغبت ایک عجیب وجہ ہے، جو عام وجوہات سے بالکل الٹ ہے۔اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان کے دماغوں میں تغیر پیدا کر رہا ہے۔کوئی زمانہ ایسا تھا کہ اسلام کے رستہ میں سب سے زیادہ روک تعدد ازدواج کی روک سمجھی جاتی تھی۔یورپ کے لوگ اصرار کرتے تھے کہ ایک سے زیادہ بیویاں کرنا بخت ظلم ہے۔مگر اب یہ حالت ہے کہ وہ پہلے بعض اور مسلمانوں کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ اسلام کا تعددازدواج کے متعلق کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا، تو بہ تو بہ، یہ بات تو دشمنوں کی طرف سے سخت بگاڑ کر پیش کی جاتی ہے، اسلام میں کوئی ایسا حکم نہیں۔یہ تو خاص خاص مجبوریوں اور شرطوں اور قیدوں کے ساتھ اجازت دی گئی ہے۔وہ کہنے لگا کہ انہوں نے جب مجھے یہ جواب دیا تو میں جھٹ کھڑا ہو گیا اور میں نے کہا، مجھے تو اسلام میں یہی ایک خوبی نظر آئی تھی اور تم کہتے ہو کہ اس کے ساتھ کئی قسم کی شرطیں اور قیدیں ہیں۔میں تو وہاں جانا چاہتا ہوں، جہاں مجھے سیدھی طرح بتایا جائے کہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔چنانچہ اس کے بعد وہ ہمارے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ اس بارہ میں اسلام کا کیا حکم ہے؟ ہمارے مبلغین نے بتایا کہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔مگر اس نے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ تم انصاف کے ساتھ کام لو اور ہر بیوی کا حق ادا کرو۔وہ کہنے لگا یہ بات درست ہے اور میری عقل اسے تسلیم کرتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یورپ نے اس تعلیم کو چھوڑ کر بہت کچھ کھویا ہے اور ہم نے اپنے اخلاق بگاڑ لئے ہیں۔اس لئے اب میں آپ کے پاس ہی آیا کروں گا۔چنانچہ وہ مجھے بھی ملا اور اپنے بیوی اور بچوں کو بھی ہمارے گھر لایا۔پھر اس نے مجھ سے جو باتیں کیں، ان سے پتہ لگتا ہے کہ اس نے کس طرح اسلامی تعلیم پر گہرا غور کیا ہے۔اس نے قرآن کریم کا انگریزی دیباچہ نکالا اور کہا کہ آپ نے اس کتاب میں ایک بات ایسی لکھی ہے، جس سے میرے دل میں شبہ پیدا ہوا ہے۔اس نے کہا، میرا طریق یہ ہے کہ میں کتاب کو پڑھتا جاتا ہوں اور جو شبہات میرے دل میں پیدا ہوں، ان کو میں نوٹ کرتا جاتا ہوں۔اس کتاب کے مطالعہ 504