تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 505
اقتباس از خطبه جمعه فرمود :09 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد سوم کے دوران میں میرے دل میں ایک شبہ پیدا ہوا ہے۔میں نے کہا، فرمائیے ، وہ کیا شبہ ہے؟ کہنے لگا، اس کتاب میں آپ نے لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک دفعہ مسجد میں عبادت کے لئے بیٹھے تھے کہ آپ کی ایک بیوی آپ سے ملنے کے لئے آ گئیں۔چونکہ واپسی کے وقت رات ہوگئی تھی ، اس لئے آپ اپنی بیوی کو گھر پہنچانے کے لئے ساتھ چل پڑے۔راستہ میں آپ کو ایک صحابی ملا۔اسے دیکھ کر آپ کو شبہ پڑا کہ کہیں اسے ٹھوکر نہ لگ جائے اور یہ خیال نہ کرے کہ میں کسی اور کو ساتھ لئے جار ہا ہوں۔چنانچہ آپ نے اپنی بیوی کے منہ پر سے نقاب اٹھادی اور اسے کہا کہ دیکھ لو، یہ میری بیوی ہے۔( مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ 156 و 285 و بخاری ابواب الاعتکاف ) جب میں نے یہ واقعہ پڑھا تو مجھے سخت اعتراض پیدا ہوا اور میں نے کہا کہ پردہ تو اسلام کے نہایت اعلیٰ درجہ کے حکموں میں سے ایک حکم ہے۔اور یہ مذہب اور پاکیزگی کی جان ہے۔اگر کوئی بد بخت شخص ایسا تھا ، جس کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پچاس، ساٹھ سالہ زندگی کو دیکھ کر بھی شبہ پیدا ہوا تو وہ بے شک جہنم میں جاتا، اس کی کیا حیثیت تھی کہ محض اس کا ایمان بچانے کے لئے اپنی ایک بیوی کے منہ سے پردہ اٹھا دیا جاتا؟ جس شخص نے اتنی مدت دراز تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمات کو دیکھا، آپ کی قربانیوں کو دیکھا، آپ کے ایمان کو دیکھا، آپ کے اخلاص کو دیکھا، آپ کی محبت الہی کو دیکھا اور پھر بھی اس کے دل میں شبہ پیدا ہوا، وہ کمبخت اگر مرتا تھا تو بے شک مرتا، اس کے لئے کیا ضرورت تھی کہ اپنی کسی بیوی کے منہ پر سے نقاب اٹھا دیا جاتا؟ چونکہ مجھ پر اس وقت بیماری کا نیانیا حملہ ہوا تھا، اس لئے میرے دل میں اس سوال سے تھوڑی سی گھبراہٹ پیدا ہوئی اور میں نے سوچا کہ یہ ایک نیا سوال ہے اور آدمی بڑا پڑھا ہوا اور زیرک ہے۔معلوم نہیں ، میں اس کا جواب بھی دے سکوں گا یا نہیں۔یوں تو اللہ تعالیٰ کی میرے ساتھ یہ سنت ہے کہ اگر کسی سوال کا جواب مجھے نہ آتا ہو تو ادھر سوال کرنے والا سوال کرتا ہے اور ادھر بجلی کی طرح میرے دل میں اس کا جواب آجاتا ہے۔مگر چونکہ میں اس وقت بیمار تھا، اس لئے میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الہی میں تو بیمار ہوں تو تو بیمار نہیں۔تو مجھے اس سوال کا جواب سمجھا دے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فوراً مجھے جواب سمجھا دیا، جس سے اس کی زبان بند ہوگئی۔میں نے کہا، آخر آپ کو یہی اعتراض ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹی چیز کے لئے بڑی چیز کو کیوں قربان کر دیا ؟ بے شک اس کا ایمان بھی ایک قیمتی چیز تھی مگر بہر حال وہ ایک کمزور انسان کا ایمان تھا کیونکہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزگی پر شک کیا۔اس شخص کے ایمان کے بچانے کے لئے اپنی ایک بیوی کا پردہ اٹھادینا، 505