تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 503
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09 ستمبر 1955ء آرہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج خطبہ جمعہ فرمودہ 09 ستمبر 1955ء آج میں سب سے پہلے اپنے ان تجارب سے جو مجھے یورپ کے سفر میں ہوئے ہیں، ایک بات کا خصوصیت سے ذکر کرنا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے غالباً 1904ء یا 1905ء میں کہا تھا کہ آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج می وہ زمانہ تھا، جب دنیا کے کسی انسان کے واہمہ اور خیال میں بھی تبلیغ اسلام نہیں تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس وقت کچھ اشتہار لکھ کر بھیجے اور بعض نے وہ اشتہار پڑھے بھی۔لیکن اس سے زیادہ اس وقت کوئی تبلیغ نہیں تھی۔بعد میں ہمارے مشن بیرونی ممالک میں قائم ہوئے اور کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا۔مگر یہ بات بھی ایسی ہی تھی ، جیسے پہاڑ کھود نے کے لئے ہتھوڑ امارا جاتا ہے۔ہتھوڑا مارنے کا سے دو، تین انچ پہاڑ تو کھر سکتا ہے، مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ پہاڑ کھودا گیا ہے۔بے شک ہم اس بات پر خوش ہو سکتے ہیں کہ پہاڑ کھودنے کا کام شروع ہو گیا ہے۔مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کھو دا بھی گیا ہے۔لیکن اس سفر میں، میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ عجیب نشان دیکھا کہ یورپ کے بعض اچھے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ طبقہ کے لوگوں میں وہی باتیں، جو پہلے اسلام کے خلاف سمجھی جاتی تھیں، اب اس کی صداقت کا ثبوت سمجھی جانے لگی ہیں۔چنانچہ میرے لندن پہنچنے سے چند دن پہلے ہی وہاں کا ایک مشہور میوزیشن (musician ) جو لندن کے ایک اہم ترین اوپرا میں کام کرتا ہے اور پیانو وغیرہ بجاتا ہے، اس کے دل میں اسلام کی رغبت پیدا ہوئی۔اس کی ماہوار تنخواہ 105 پونڈ ہے۔گویا آج کل کے ریٹ کے مطابق چودہ سو روپیہ۔لیکن اس کے علاوہ وہ زائد رقم بھی کمالیتا ہے۔اس کی بیوی نے بتایا کہ وہ قریباً سترہ اٹھارہ سو پونڈ سالانہ کماتا ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی دو ہزار کے قریب ماہوار آمد ہے۔مجھے ایک دفعہ لندن میں بڑے بڑے تاجر ملنے کے لئے آئے ، میں نے ان کے سامنے اس کا نام لیا تو ایک شخص کی بیوی نے فوراً پہچان لیا اور کہا، ہاں میں اس کو جانتی ہوں۔اس نے بڑی سی داڑھی رکھی ہوئی ہے۔اتنی بڑی داڑھی کہ آپ ) 503