تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 490

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 فروری 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم دیا تھا، کیا انہوں نے وہ نقص دور کر دیا؟ کیا انہوں نے اٹھارہ دنوں میں ایک دن بھی میری ہدایت کے مطابق کام کیا؟ پھر اختر صاحب بتادیں کہ انہوں نے اٹھارہ دنوں میں ایک دن بھی میری ہدایت پر عمل کیا ؟ میں نے انہیں بتا دیا تھا کہ فلاں جگہ نقص ہے اور وکیل نے جی حضور کہہ کر ٹال دیا۔اگر ہمیں ایسی جماعتوں کا پتہ لگ جائے ، جنہوں نے وعدے بھجوانے میں سستی کی ہے تو ہم ان کے امیر بدل دیں ، ان کے سیکرٹری بدل دیں۔باقی جماعتوں کو کیوں بد نام کریں؟ بہر حال یہ طریق اصلاح کے قابل ہے۔جن جماعتوں نے دوسرے لوگوں کی اصلاح کرنی ہے، انہیں پہلے گھر کی اصلاح کرنی چاہیے۔اگر کسی کے اپنے گھر میں گند پڑا ہے تو اس نے گلی میں کیا صفائی کرنی ہے؟ اگر ان لوگوں میں ہی کمزوری پائی جائے، جو نمبر دار کہلاتے ہیں تو اور لوگوں کی اصلاح تو ہو چکی ، دوسرے لوگ تو کمزور ہوں گے ہی۔اگر تم پاکستان کے علاوہ دوسری جماعتوں میں جاؤ تو تمہیں معلوم ہوگا کہ ہر جماعت میں یہ احساس ہے کہ ہما را چندہ باہر کیوں جائے؟ بلکہ بعض جماعتیں یہاں تک کہہ دیتی ہیں کہ ہمارا روپیہ پاکستانی مبلغ پر کیوں خرچ ہو؟ حالانکہ انہیں یہ کم نہیں کہ جب پہلی دفعہ ان کے پاس مبلغ بھیجا گیا تھا تو اسے پاکستانی جماعت نے ہی کرایہ دے کر بھیجا تھا۔پھر دو، چار سال جب تک وہاں جماعت قائم نہیں ہوئی تھی ، سارا خرچ پاکستان کی جماعت نے دیا تھا۔اب بھی اکثر جگہوں پر پاکستان ہی کی جماعت خرچ کرتی ہے۔مگر بیرونی جماعتیں ایک ایک پیسہ پر بحث شروع کر دیتی ہیں اور کہنے لگ جاتی ہیں کہ ہمارا چندہ باہر کیوں جائے؟ وہ سمجھتے ہیں کہ تبلیغ کا ذمہ دار صرف پاکستان ہے، باقی لوگوں پر تبلیغ کی ذمہ داری نہیں۔امریکہ کی جماعت چاہتی ہے کہ امریکہ کا چندہ امریکہ میں ہی خرچ ہو، جاپان چاہتا ہے کہ اس کا چندہ جاپان میں خرچ ہو، انڈونیشیا چاہتا ہے کہ اس کا چندہ انڈونیشا میں ہی خرچ ہو، ملایا چاہتا ہے کہ اس کا چندہ ملایا میں ہی خرچ ہو، عرب چاہتا ہے کہ اس کا چندہ عرب میں ہی خرچ ہو، افریقہ چاہتا ہے کہ اس کا چندہ افریقہ میں ہی خرچ ہو۔باقی دنیا میں تبلیغ پر جو خرچ ہو، وہ پاکستان برداشت کرے۔لیکن یہ احمقانہ خیال ہے۔پس یہ مرض باہر کی جماعتوں میں پائی جاتی ہے۔اور جب یہ مرض باہر کی جماعتوں میں اس وقت بھی پائی جاتی ہے، جب پاکستان کی جماعت نے اکثر حصہ بوجھ کا اٹھایا ہوا ہے۔تو جب مرکز میں ہی خرابی پیدا ہو جائے تو ہم انہیں کیا کہیں گے؟ جب ذمہ دار لوگ معمولی عقل کی بات بھی نہ کریں تو دوسروں کا کیا شکوہ ہے؟ وہ امریکہ، جرمنی، ہالینڈ اور دوسرے ممالک کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں، لیکن اپنی اصلاح نہیں کر سکتے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے، جیسے کہتے ہیں۔مژده باد اے مرگ ! عیسی آپ ہی بیمار ہے یعنی اے موت ! تجھے مبارک ہو کہ میسی، جو مردے زندہ کیا کرتا تھا ، وہ آپ ہی بیمار ہے۔490