تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 491

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 فروری 1955ء پس مرکز کے رہنے والوں پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔انہیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے اور پھر اصلاح کرتے رہنا چاہئے۔انہیں اپنی معقل تنظیم اور قربانی سے یہ ثابت کرنا چاہئے کہ وہ محض اتفاقی طور پر ہی لیڈر نہیں بنے ، بلکہ خدا تعالیٰ نے انہیں لیڈر بنایا ہے۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو اس ملک میں پیدا کیا تھا تو یہ دیکھ کر کیا تھا کہ ہم لوگوں میں قابلیت پائی جاتی ہے۔اگر ہم اپنی قابلیت کو ظاہر نہیں کرتے تو خدا تعالیٰ جھوٹا نہیں، ہم خود جھوٹے ہیں۔اگر ہم اپنی قابلیت کو ظاہر نہیں کرتے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم اپنی طاقت کو ضائع کر رہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، اس نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! میرے بھائی کو دست آرہے ہیں۔آپ نے فرمایا، اسے شہد پلاؤ۔چنانچہ وہ واپس گھر گیا اور اس نے اپنے بھائی کو شہد پلایا لیکن دست اور زیادہ ہو گئے۔وہ دوبارہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا، یارسول اللہ ! میں نے اپنے بھائی کو شہد پلایا تھا، لیکن اس کے دست اور زیادہ ہو گئے ہیں۔آپ نے فرمایا ، اسے اور شہد پلاؤ۔چنانچہ اس نے اور شہد پلایا لیکن دست اور زیادہ ہو گئے۔وہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا، یا رسول اللہ ! دست تو اور زیادہ ہو گئے ہیں۔آپ نے فرمایا، اسے اور شہد پلاؤ۔اللہ تعالیٰ سچا ہے، تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔جب خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ شہد میں شفا ہے تو اس کے پینے سے یقیناً شفا ہو گئی۔خدا تعالی کی بات جھوٹی نہیں ہوسکتی۔میں کس طرح مانوں کہ تمہارے بھائی کے دست شہد پینے سے ٹھیک نہیں ہوئے؟ معلوم ہوتا ہے تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔بات بھی ٹھیک ہے۔یہ بات طب سے ثابت ہے کہ جس شخص کو بد ہضمی کی وجہ سے اسہال ہوں ، اسے جلاب آور دوا دینی چاہیے تا کہ تمام فاسد مواد اندر سے نکل جائے۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ جھوٹا نہیں، اس نے شہد میں شفار کھی ہے تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔پس اگر تم اپنی قابلیت کو ظاہر نہیں کرتے تو تم جھوٹے ہو، خدا تعالیٰ سچا ہے۔خدا تعالیٰ نے تمہیں لیڈر اس لئے بنایا تھا کہ تم میں قابلیت پائی جاتی ہے۔اگر تمہارے دماغ اور دوسرے قومی دوسرے لوگوں سے بہتر نہ ہوتے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس ملک میں نہ بھیجتا۔میرے پاس ایک دفعہ امریکہ کا قونصل جنرل آیا ، میں نے اسے کہا تم امریکہ والے پاکستان کے معاملات میں دخل دیتے ہو، یہ امر پسندیدہ نہیں۔تو وہ اس بات سے چڑ گیا۔میں نے اسے کہا، کیا تمہارے دماغ ، ہمارے دماغوں سے زیادہ اچھے ہیں؟ اسے یہ بات بری لگی ہوگی۔لیکن آخر ان کی کون سی چیز ایسی ہے، جو تم سے اچھی ہے؟ وہ تو 491