تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 486

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 فروری 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کیا تھا کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گے۔لیکن اس دفعہ ایسے آثار پیدا ہور رہے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ تم نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے میں کوتاہی کی ہے اور اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا نہیں کیا۔ابھی چند دن باقی ہیں تم ان میں اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کرو اور ساتھ دعا بھی کرو۔کیونکہ یہ بات ناممکن نہیں کہ ان چند دنوں میں جماعت میں ایسا جوش پیدا ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ جماعت کی اس کو تا ہی کو دور کر دے، جو اس نے اس وقت تک کی ہے۔لیکن اگر اس نے پھر بھی کوتاہی کی تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اگر کسی نے سمندر طے کرنا ہو اور اس کی گردن پر بوجھ ہو تو اس بوجھ کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کیا جاسکتا۔نجات اس بوجھ کو اتارنے میں ہی ہوتی ہے۔اگر کسی بڑے سمندر کو طے کرنا ہو یا کسی بڑے دریا کے پاٹ میں سے گزرنا ہو اور پھر گلے کے ساتھ بندھا ہوا ہوتو وہ شخص احمق ہوگا، جو اس پتھر کو اتارے نہیں۔جو اس پتھر کو نہیں اتارے گا ، وہ سمندر کو طے کرتے ہوئے ڈوب جائے گا۔اس لئے میں جماعت کو آخری دفعہ توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اب ایسا قدم اٹھائے ، جس سے پہلی شرمندگی دور ہو سکے۔لیکن اس کے ساتھ ہی میں اس بات کے بیان کرنے سے بھی باز نہیں رہ سکتا کہ اس بارہ میں مرکزی دفتر نے بھی غفلت سے کام لیا ہے۔میں ایک ماہ سے کہ رہا ہوں کہ کسی نہ کسی جگہ غلطی ہے۔کیونکہ جن لوگوں کے خطوط میرے پاس آرہے ہیں، ان میں سے 99 فیصدی نے یا تو وعدوں میں اضافہ کیا ہے یا کم سے کم پہلے سال جتنے وعدے کئے ہیں۔صرف چند جماعتیں ہیں، جن سے اس بارہ میں سنتی واقع ہوئی ہے۔اب عقلمند کا یہ کام ہے کہ وہ بیماری تلاش کرے اور پھر اس کا علاج کرے۔میں نے مرکزی دفتر سے کہا کہ مجھے ایسی جماعتوں کی لسٹ بھجوا ؤ، جنہوں نے وعدے بھجوانے میں سستی سے کام لیا ہے۔تا ان پر زور دیا جاسکے۔یا تم اپنے انسپکٹروں کو بھجواؤ اور ان سے کہو کہ اگر وعدے بھجوانے ہیں تو جلدی بھجواؤ۔دفتر والوں نے کہا ، جی حضور، اور پھر آٹھ دن گزر گئے۔پھر میں نے کہا، مجھے سست جماعتوں کی لسٹ بھیجواؤ تو دفتر والوں نے کہا، جی حضور، اور پھر آٹھ دن گزر گئے اور ابھی تک ان کی طرف سے لسٹ نہیں آئی۔پھر میں نے اختر صاحب سے کہا کہ ان لوگوں سے ست جماعتوں کی لسٹ بنواؤ اور مجھے بھجواؤ۔میں سمجھتا تھا کہ وہ باہر سے آئے ہیں، وہ کام کریں گے۔لیکن انہوں نے بھی باتوں کی عادت ڈالی ہوئی ہے، کام کرنے کا نام، وہ بھی نہیں لیتے۔میں نے انہیں سمجھایا تھا کہ بعض لوگ کام کرتے وقت پچھلی تین پشتوں سے کام شروع کرتے ہیں اور اس طرح ان کے کاموں میں دیر ہو جاتی ہے۔مگر انہوں نے میری اس نصیحت پر عمل کرنے کی بجائے یہ خیال کر لیا کہ تین پشتیں بھی تھوڑی ہیں، اصل میں چھ پشتوں سے کام شروع کرنا چاہئے۔چنانچہ وہ بھی کوئی کام نہیں کر رہے۔پھر میں نے وکلاء کو بلاکر کہا کہ تم وکیل المال سے روزانہ رپورٹ لیا کرو لیکن انہوں نے 486