تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 485

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 فروری 1955ء قابلیت ہے تبھی خدا نے آپ کو چنا ہے، پس اپنی طاقت کو ضائع مت کرو " خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1955ء میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ یہ جمعہ تحریک جدید کے وعدوں کے لحاظ سے آخری جمعہ ہے۔تحریک جدید کے وعدوں کی آخری تاریخ 23 فروری ہے اور آج 18 فروری ہے۔گویا اگلا جمعہ 25 فروری کو آئے گا اور 25 فروری تک تحریک جدید کے وعدوں کی میعاد گزرچکی ہوگی۔اس وقت تک جتنے وعدے آنے چاہیے تھے، ابھی تک ان میں سوالاکھ کی کمی ہے۔اور روزانہ وعدوں کی آمد بھی ہزار، دو ہزار سے زیادہ نہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ جماعت کے افراد نے اپنے فرائض کو سمجھنے میں کوتاہی کی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور یہ ضرور ہو گا۔لیکن اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے مجھ پر بھی یہ ذمہ داری عائد کی ہوئی ہے کہ میں تم سے کام کراؤں۔اس لئے مجھے یقین ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ اپنے کام کے چلانے کے لئے کوئی نہ کوئی رستہ کھول دے گا ، وہاں میں محسوس کرتا ہوں کہ چاہے مجھے تختی کرنی پڑے یا کوئی اور طریق اختیار کرنا پڑے، بہر حال میں تم کو اس ذریعہ سے توجہ دلاتا رہوں گا۔تا کہ تم اپنے فرائض کو سمجھ جاؤ۔میرے لئے یہ بات تلخ ہے یا شیریں، مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔بہر حال میں نے خدا تعالیٰ کے سامنے یہ بات پیش کرنی ہے کہ جن لوگوں سے کام لینے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی گئی تھی ، ان سے میں نے کام لیا ہے یا نہیں؟ اور جو لوگ میری ہدایت کے مطابق کام نہیں کر سکے، انہیں میں نے اپنی جماعت سے الگ کر دیا ہے یا نہیں؟ میں آخری دفعہ جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھے۔ابھی وعدوں کی میعاد میں چند دن باقی ہیں۔ممکن ہے، ان چنددنوں میں وعدوں کے بھیجنے میں زور پیدا ہو جائے۔عام طور پر ان آخری دنوں میں وعدوں میں زور نہیں ہوتا بلکہ وعدوں کی آمد میں کمی پیدا ہو جاتی ہے۔اور پھر جو وعدے اس وقت آرہے ہیں، ان سے پتہ لگتا ہے کہ وعدوں کے زور میں کمی آچکی ہے۔پچھلے پانچ دنوں میں دس ہزار کی جو زیادتی تھی ، وہ یکدم 26 ہزار کی کمی میں تبدیل ہو گئی ، اس پر تم آئندہ کا بھی قیاس کرلو۔بہر حال میں جماعت کے افراد کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ تم نے احمدیت میں داخل ہوتے وقت اس بات کا اقرار۔485