تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 487

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 فروری 1955ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم بھی اس کام کی طرف توجہ نہیں کی۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے دونوں فریق پرستی کرنی پڑے گی۔وکلاء کو بھی میں نے کہا کہ جماعت واروعدے چیک کرو اور دوکالت مال سے روزانہ رپورٹ لے کر مجھے بھجواؤ۔لیکن انہوں نے نہایت غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔میں نے انہیں طریق علاج بھی بتا دیا تھا لیکن انہوں نے میری ہدایت کے مطابق کام نہیں کیا۔اختر صاحب سے کہا کہ تم ان سے کام کراؤ اور انہیں کہو تم مرض کو پکڑ اور اس کا علاج کرو لیکن انہوں نے بھی اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کیا۔حالانکہ یہ ایک معمولی بات ہے۔جماعتوں کے دعدوں کا جائزہ لینے سے فورا معلوم ہو جاتا ہے کہ کس جماعت نے ستی سے کام لیا ہے یا ان کے وعدوں میں پچھلے سال کی نسبت کمی آئی ہے؟ میرے پاس جن جماعتوں کے وعدے آئے ہیں، ان میں صرف ایک جماعت ایسی ہے، جس کے اس سال کے وعدے پچھلے سال کے وعدوں کی نسبت کم ہیں۔اور اس کی وجہ انہوں نے لکھی ہے کہ ان کے کچھ آدمی تبدیل ہو کر دوسری جگہ چلے گئے ہیں۔اس کے علاوہ کوئی ایسی جماعت نہیں، جس کے وعدے پچھلے سال کی نسبت کم ہوں۔بلکہ انہوں نے پچھلے سال کی نسبت وعدے بڑھا کر پیش کئے ہیں۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ دفتر نے مقابلہ کر کے دیکھا نہیں کہ کون سی جماعت نے وعدے بھیجوانے میں سستی کی ہے؟ جتنی جماعتوں نے اس وقت تک وعدے بھجوائے ہیں، انہوں نے پچھلے سال کی نسبت وعدے بڑھا کر پیش کئے ہیں۔اس لئے لازما جن جماعتوں کی طرف سے ابھی تک وعدوں کی لسٹ نہیں آئی ، ان میں سے بعض کی طرف سے کوتاہی ہوئی ہوگی۔پس بجائے اس کے کہ میرے پرانے خطبوں کے بعض حوالے نکال نکال کر الفضل میں شائع کئے جائیں اور اس طرح لوگوں پر یہ اثر ڈالا جائے کہ دوسری جماعتوں نے بھی وعدے بھجوانے میں سستی سے کام لیا ہے، یہ ضروری تھا کہ جن جماعتوں کی طرف سے ابھی تک وعدے نہیں آئے ، ان پر زور دیا جاتا۔پس یہ بات مشکل ہے کہ میں اس بستی کی ذمہ داری صرف جماعتوں پر ڈالوں۔مرکزی دفتر والوں نے بھی سستی اور غفلت سے کام لیا ہے۔پس ضروری ہے کہ میں جماعت پر بھی اور مرکزی دفتر والوں پر بھی سختی کروں۔یہ ایک تلخ گھونٹ ہے، جو مجھے پینا پڑے گا۔لیکن اپنے فرائض کی ادائیگی میں اس قسم کے تلخ گھونٹ پینے ہی پڑتے ہیں۔چاہے بعد میں یا ساتھ ہی میرے دل پر یہ بات گراں گزرے۔لیکن خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو ہونے کے لئے اس قسم کے تلخ گھونٹ پیئے بغیر چارہ نہیں ہوتا۔لیکن اس سے قبل میں ایک دفعہ پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی کوتاہیوں اور سستیوں کو دور کرے اور ان چند دنوں میں، جو باقی رہ گئے ہیں، وعدوں کی موجودہ کمی کو دور کرے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے، میں نے وکلاء کو اپنے پاس بلایا اور اپنے سامنے بٹھا کر کہا کہ تم جماعت وار وعدے چیک کرو اور 487