تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 460
اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم کو ایک آخری جنگ اسلام کے ساتھ لڑنی پڑے گی۔لیکن کسی کا تو یہ حساس ہے کہ یہ مصر میں لڑائی ہوگی کسی کا یہ احساس ہے کہ کسی اور بڑے میں مرکز میں ہوگی ، یورپ میں ہوگی یا امریکہ میں ہوگی مگر میں ایک دورہ سے جو ابھی آیا ہوں، میں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اسلام اور عیسائیت کی یہ جنگ کسی اور بڑے مقام پر نہیں لڑی جائے گی ، ایک چھوٹا سا قصبہ قادیان ہے، وہاں لڑی جائے گی۔دیکھو، یہ 1917ء کی بات ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ سینتیس سال اس کے اوپر گزر گئے۔سینتیس سال ہوئے ، جب ہماری طاقت بالکل کم تھی ، جب ابھی تحریک جدید کا نام بھی نہیں تھا۔اس وقت اس شخص کی ذہانت نے بتایا کہ آئندہ اسلام اور عیسائیت کی جنگ قادیان میں ہونی ہے۔مگر اب تو تمہارے نام سے سارے کے سارے واقف ہیں۔دیکھو، ٹائن بی ، جو اس وقت سب سے بڑا مؤرخ مانا جاتا ہے اور قریباً گن کی پوزیشن اس کو ملنے لگ گئی ہے بلکہ بعض تو اس سے بھی بڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا میں ایسا مورخ کبھی نہیں گزرا، اس نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ دنیا میں جو رد و بدل ہوا کرتے ہیں اور تغیر آیا کرتے ہیں، وہ اخلاقی اقدار سے آتے ہیں۔جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ کوئی بڑی چیز ہو یا بڑی طاقت ہو تو اس سے تغیرات ہوتے ہیں، یہ غلط بات ہے۔پھر اس نے مثال دی ہے اور اس نے لکھا ہے کہ عیسائیت کے ساتھ اب اسلام کی ٹکر ہوگی ، جس کے سامان نظر آرہے ہیں۔آگے اس کے مطالعہ کی غلطی ہے۔اس نے سمجھا ہے کہ شاید یہ جو بہائی ہیں، یہ بھی مسلمان ہی ہیں۔حالانکہ وہ تو کہتے ہیں ہم مسلمان نہیں ہیں۔بہر حال وہ کہتا ہے کہ بہائی ازم اور احمدی ازم یہ دو چیزیں نظر آ رہی ہیں، جن میں مجھے آئندہ لڑائی والی جھلک نظر آ رہی ہے۔ان کے ساتھ ٹکر کے بعد یہ فیصلہ ہوگا کہ آئندہ تہذیب کی بنیاد اگلی صدیوں میں اسلام پر قائم ہوگی یا عیسائیت پر قائم ہوگی۔پھر اس نے مثال دی ہے، کہتا ہے، ہم تو گھوڑ دوڑ کے شوقین ہیں، ہمارے ہاں عام گھوڑ دوڑ ہوتی ہے۔ہم گھوڑ دوڑ والے جانتے ہیں کہ نہیں کہ بسا اوقات جو گھوڑ ا سب سے پیچھے سمجھا جاتا ہے، وہ آگے نکل جاتا ہے۔تو وہ کہتا ہے کہ یہ مت خیال کرو کہ احمدی اس وقت کمزور ہیں۔کیونکہ بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ پچھلا گھوڑا آگے نکل جاتا ہے۔اسی طرح اب تم کو یہ کمزور نظر آتے ہیں لیکن مجھے ان میں وہ ترقی کا بیج نظر آرہا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی وقت عیسائیت کے ساتھ ٹکرلیں گے اور شاید یہی جیت جائیں۔دیکھو، اتنا بڑا شخص ، جس کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں سب سے بڑا مؤرخ ہے، اس کو بھی مانا پڑا کہ احمدیت کے اندروہ بیج موجود ہے، جس نے عیسائیت سے ٹکر لینی ہے۔اور پھر ممکن ہے، یہی جیت جائیں۔وہ تو آخر مخالف ہے، اس نے ممکن ہی کہنا تھا، یہ تو نہیں کہنا تھا کہ یقینی امر ہے کہ جیت جائیں۔460