تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 459

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1954ء میں ہے، ہالینڈ میں ہے، جرمنی میں ہے، سوئٹزر لینڈ میں ہے، یورپ میں اہم ملکوں کے لحاظ سے اٹلی، فرانس اور چین میں اور مشن ہونے چاہئیں۔ایشیا میں تمہارا جاپان میں اور آسٹریلیا اور ایک تھائی لینڈ وغیرہ کے علاقے میں ہونا چاہئے ، جو چین وغیرہ میں تبلیغ کو وسیع کر سکے۔امریکہ میں اگر ہمارے دو مشنری اور ہو جائیں یعنی ایک کینیڈا میں اور ایک جنوبی امریکہ کے کسی علاقہ میں تو پھر اس طرح تمہاری تنظیم ہوسکتی ہے کہ تم ایک دم ساری دنیا میں اسلام کی آواز کو بلند کر سکتے ہو۔اگر اس کے ساتھ لٹریچر مہیا ہو جائے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے قرآن شریف سے زیادہ اعلیٰ لٹریچر کیا ہوگا، قرآن شریف شائع ہو گیا ہے اور کئی کتابیں ، جو ضروری ہیں، وہ ہمارے زیر نظر ہیں، تو اور بھی آسانی ہو سکتی ہے۔جوں جوں چھپوانے کی توفیق ہو گی ، وہ چھپنی شروع ہو جائیں گی۔اگر جماعت کے مخلص لوگ حصہ لے کر اور نینٹل پبلشنگ کمپنی کو کھڑا کر دیں اور پریس جاری ہو جائے تو پھر انشاء اللہ جلدی جلدی اور لٹریچر بھی شائع ہونا شروع ہو جائے گا۔میں نے ایسے لٹریچر مد نظر رکھ لئے ہیں، جن کو فورا ہی لکھوا کر وسیع کیا جا سکتا ہے۔بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ تنظیم ہو جائے تو یہ عیسائیت پر ایک ایسا حملہ ہو جائے گا، جس کو رد کرنے کے لئے دشمن کے لئے مشکل پیش آئے گی۔مثلاً دیکھو، میرا قرآن شریف کا دیباچہ شائع ہوا ہے، اس کے متعلق متواتر جور پورٹیں آ رہی ہیں، جرمن سے، ہالینڈ سے اور دوسرے کئی ممالک سے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مصنفوں نے اس کے متعلق لکھا ہے۔بعض نے گالیاں بھی دی ہیں اور بعضوں نے کہا ہے کہ عیسائیت کے ساتھ بڑی سختی کی گئی ہے۔مگر تمام کا خلاصہ یہ آجاتا ہے کہ یہ اسلام کا ایسا حملہ ہے، جس کو رڈ کئے بغیر ہم چپ نہیں رہ سکتے۔مگر یہ دیکھ لو کہ آج تم بہت زیادہ ہو، ( میں نے وہ مثال اسی لئے مدینہ کی دی تھی کہ آج تو تم بہت زیادہ ہو۔) جب تم ابھی تھوڑے تھے اور جب قرآن شریف سارا نہیں نکلا تھا ، صرف پہلا سپارہ شائع ہوا تھا۔اس وقت فورمن کرسچن کالج لاہور کا پرنسپل اور اس کے دو ساتھی ، جن میں سے ایک عالمگیر محکمہ بینگ مین کرسچن ایسوسی ایشن کا اشاعت کتب کا سیکرٹری تھا اور ایک جنرل سیکرٹری تھا، یہ تینوں مجھے قادیان ملنے آئے ، باتیں ہوئیں، باتیں ہونے کے بعد ( وہ لوگ اس وقت امریکہ جا رہے تھے۔امریکہ چلے گئے۔چند دنوں کے بعد سیلون سے وہاں کی جماعت نے مجھے ان کا ایک کٹنگ بھجوایا، جس میں ذکر تھا کہ سیلون میں فورمن کرسچن کالج کا جو پر نسپل تھا، اس نے تقریر کی اور اس نے کہا کہ عیسائیت کے لئے اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ اس کو اسلام کے ساتھ آخری جنگ لڑنی پڑے گی۔اور اس نے کہا یہ احساس عیسائیوں میں عام ہے کہ اب عیسائیت 459